ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 130
130 کر دیا کہ اب عراق سے خطرہ تو نہیں رہا مگر ہمیں شام سے خطرہ شروع ہو گیا ہے اور وہی باتیں جو پہلے عراق کے متعلق کسی جاتی تھیں اب شام کے متعلق کسی جانے لگیں۔پھر وہ خطرے جو میں نے پیش کئے تھے۔یہ تو نہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک میں نے کوئی غیب کی خبریں بتائی تھیں مگر ہر انسان حالات کا جائزہ لیکر اندازے لگاتا ہے۔پس میں نے بھی جہاں تک ان قوموں کے مزاج کو سمجھا کچھ اندازے لگائے اور میرا اندازہ یہ تھا کہ عراق کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا اور بعض دوسری قوموں سے اندر کھاتے، مخفی طور پر ہو سکتا ہے ، سمجھوتے ہو گئے ہیں کہ تم فلاں حصے پر قبضہ کر لیتا تم فلاں حصے پر قبضہ کر لینا۔پس عراق میں جو بغاوت ہو رہی ہے، یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا دوسری قوموں سے کوئی تعلق نہیں مگر جو لوگ بھی اس صدی کی تاریخ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جہاں جہاں بغاوتیں ہوئی ہیں وہاں ضرور دوسری قوموں کا تعلق ہوتا ہے۔آج کے زمانے میں طاقت ور منتظم فوجوں سے لڑنے کی عوام الناس میں طاقت ہی نہیں ہے جب تک باہر سے امداد نہ ہو جب تک باہر سے شہ نہ ملے یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی ملک میں واقعیہ منظم بغاوت ہو جائے۔چنانچہ افغانستان میں جو کچھ ہوا آپ جانتے ہیں۔اگر امریکہ مجاہدین کی مدد سے اپنے ہاتھ کھینچ لیتا تو وہاں جو کچھ آپ نے دیکھا ہے ہو ہی نہیں سکتا تھا، ممکن ہی نہیں تھا۔اگر ویتنام میں روس ویتنامیوں کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتا تو امریکہ کو جو بالآخر عبرتناک شکست ہوئی وہ ممکن نہیں تھی۔غالباً ساڑھے آٹھ سال کا عرصہ ہے انہوں نے وہاں بہت ہی درد ناک جنگ کی حالت میں گزارا ہے۔وہ جنگ چند مہینوں کے اندر ختم ہو سکتی تھی اگر امریکہ کے مقابل پر روس انکا مددگار نہ ہو رہا ہوتا تو اس لئے بیرونی خطرات پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اور کل بھی ہوں گے لیکن پہلے دو سمتوں سے ہوتے تھے اب ایک ہی سمت سے ہیں۔اس لئے اس رمضان میں خاص طور پر یہ دعائیں کریں کہ اب جبکہ ایک ہی طاقت ہے جو دنیا پر غالب آچکی ہے اور وہ امریکہ اور روس کے ساتھیوں کی طاقت ہے تو اللہ تعالی اس عظیم طاقت کو جیسی طاقت آج تک کبھی دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں ابھری وہ ساری دنیا پر اس طرح غالب آچکی ہو کہ مقابل کی ہر طاقت اس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے، یہ توفیق نہ دے کہ خدا کے