ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 128

128 قومیں جو ہزار سال دو ہزار سال چار ہزار سال تک بار بار خدا تعالٰی کی ناشکری کرتی رہیں اور اس کی نافرمانی کرتی رہیں اور اس کے بندوں پر ظلم بھی کرتی رہیں، ان میں بھی نیکوں کی گنجائش موجود ہے اور نیکی کی گنجائش موجود ہے تو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کا لایا ہوا دین جو آخری اور کامل دین ہے اس سے وابستہ لوگوں کے متعلق یہ کہنا کہ نعوذ باللہ وہ سارے جہنمی ہو گئے، سارے کا فربے دین ہو گئے یہ بہت ہی بڑا ظلم ہوگا۔پس جماعت احمدیہ کے لئے خصوصیت سے اس میں سبق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں ایسے لوگوں پر سختی فرمائی ہے جنہوں نے ظلم اور تعدی اور عناد میں ہر حد پھلانگ دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نہایت ہی ناپاک اور ظالمانہ رویہ اختیار کیا وہ زبان اس گروہ کے محض چند لوگوں سے تعلق رکھتی ہے جو فساد اور فتنے اور ظلم میں حد سے زیادہ بڑھے ہوئے لوگ تھے۔عامتہ المسلمین سے اس کا تعلق نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو دوسری جگہ خود کھول کر بیان فرمایا ہے اور فرمایا ، جہاں تک عام مسلمانوں کا تعلق ہے ان سے بے حد محبت رکھتا ہوں۔ان میں صلحاء بھی ہیں۔ان میں خدا کے بزرگ بھی ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ خبر کے مطابق ان میں بڑے بڑے مرتبہ رکھنے والے لوگ ہیں۔صلحاء عرب بھی ہیں اور ابدال الشام بھی ہیں۔سورۂ فاتحہ سے انکسار کا سبق سیکھیں یں جماعت احمدیہ کو سورۂ فاتحہ سے یہ انکسار بھی سیکھنا چاہئے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہم میں سے ہر شخص کی نجات کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ ہر قوم میں ایسے استثناء ہوتے ہیں کہ اچھوں سے بُرے لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں اور بہروں سے اچھے لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے نہ انعمت کے مضمون میں کسی قوم کا ذکر فرمایا، نہ مغضوب اور ضالین کے مضمون میں کسی قوم کا ذکر فرمایا اور اس مضمون کو کھلا رہنے دیا۔بنیاد یہی ہے اور فیصلے کی کسوٹی میں ہے کہ ہر وہ شخص اور ہر وہ قوم جو خدا تعالی کی ان چار صفات سے گہرا تعلق جوڑتی ہے اور اپنے آپ کو دوئی کی ملونی سے پاک کرتی ہے، جن صفات کو