ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 123
123 ہاں روز مرہ کے محاورے میں یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ اس کی تو فلاں نیکی کام آگئی حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انسان کی نیکیاں کیا؟ ان کی حیثیت کیا؟ خدا تعالٰی اگر انسان کی نیکیوں کے مقابل پر اس کی بد اعمالیوں کا حساب کرے تو کسی کے پہلے کوئی نیکی باقی نہ رہے۔اپنی نیکی کی طرف خیال آجاتا ہے اور بدیاں انسان بھول جاتا ہے اور خدا کے وہ احسانات جو خالفتہ " فضل کے نتیجے میں ہیں ان احسانات کو اپنی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے کہ میری کسی خوبی کے نتیجے میں ایسا ہوا۔لیکن ایک عارف باللہ اس معاملے میں کبھی دھوکہ نہیں کھاتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مناجات میں عرض کرتے ہیں کہ سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے کیسا سادہ لیکن کتنا عظیم اور قومی اظہار ہے۔کتنی گہری اور دائمی حکمت اس میں بیان فرما دی گئی ہے سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے بس الحمدللہ کہتے ہوئے جب تک یہ رجحان پیدا نہ ہو کہ سب کچھ تیری عطا ہے۔گھر سے ہم کچھ نہیں لائے تو اس وقت تک الحمد کا مضمون کامل نہیں ہو سکتا اور اس وقت تک اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعاء میں طاقت پیدا نہیں ہو سکتی۔پس جب آپ سے اپنے آپکو خالی کر لیتے ہیں۔اللہ کے جتنے احسانات ہیں ان کو خدا کے احسانات کے طور پر گنتے ہیں اور ان پر حمد کے گیت گاتے ہیں تو پھر جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإياك نستعين کہتے ہیں تو دل پوری سچائی کے ساتھ یہ عرض کرتا ہے، خدا کے حضور یہ اقرار کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ ہم نے تو اپنی حمد کبھی کچھ نہیں ، اس لئے ہم اپنی عبادت نہیں کرتے۔ہم نے تو کسی غیر کی کوئی حمد سمجھی ہی نہیں اس لئے ہم کسی غیر کی عبادت نہیں کرتے اور تو جانتا ہے اور تو دیکھ رہا ہے کہ جب تمام ترجمہ ہم تیرے حضور پیش کر بیٹھے تو اب سوائے تیری عبادت کے ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔ایسی صورت میں عید عابد بن جاتا ہے اور ایک عام انسان نہیں رہتا۔یوں تو ہر انسان خدا کا بندہ ہے لیکن سورہ فاتحہ ایک عبد کو عابد میں تبدیل کرتی ہے۔تب اس کا یہ حق ہے کہ وہ