ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 124
124 یہ عرض کرے : اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہ سب کچھ تیرے خزانے میں جمع ہو گیا ہمارے پاس تو رہاہی کچھ نہیں اس لئے ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور تیری مدد کے بغیر ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔اس نستعین میں بہت کچھ شامل ہے۔اس نشتوین کی دعا میں ہر دعا مانگی جاسکتی ہے اور اس دعا میں از خود حمد کی طلب بھی شامل ہو جاتی ہے۔چنانچہ جب انسان ان تمام مراحل سے گزرتا ہے اور پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے گزرتا ہے، احتیاط کے ساتھ گزرتا ہے، شرک سے اپنے آپ کو کلیتہ "پاک کرلیتا ہے اور حقیقت میں خدا۔کے حضور اپنا مقام سمجھنے لگ جاتا ہے تو اس وقت جب اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو اس کی کسی اور ان کی ساری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کے بعد پھر جب اهدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتا ہے تو پھر دعائیں ایک نئے مضمون میں داخل ہو جاتی ہیں۔انعام والے مضامین ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں۔جن کی کوئی حد نہیں ہے اور ایک جاری سلسلہ ہے۔انعامات کے سب دروازے کھلے ہیں اس ضمن میں یہ یاد رکھیں کہ انعمتَ عَلَيْهِمْ کے مضمون میں ایک پوری تاریخ ہمارے سامنے رکھ دی گئی ہے۔چونکہ اس سے پہلے میں اس بات پر گفتگو کرچکا ہوں اس لئے مزید اسے نہیں چھیڑتا لیکن انگنت کے چار مراتب ہیں اور سورۂ فاتحہ کی ابتداء میں خدا کی چار صفات پیش فرمائی گئی ہیں۔ان چاروں صفات سے جس انسان کا تعلق کامل ہو جائے گا وہ اننت میں آخری مقام تک پہنچے گا اور جس حد تک اس کا صفات باری تعالٰی سے تعلق کمزور ہو گا اسی حد تک انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں اسے نسبتاً ادنی مقام نصیب ہو گا۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی مقام ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔ہر مقام جاری ہے لیکن سورۂ فاتحہ میں صفات باری تعالٰی کو جس رنگ میں پیش فرمایا گیا ہے ان صفات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔جس کامل عبودیت کے ساتھ ، جس کامل انکسار کے ساتھ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے نفس کو حد سے خالی کر کے ربوبیت سے