ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 100
100 شخص بڑی آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھا سکے، ورنہ رحمانیت، رحیمیت، مالکیت وغیرہ کے انفرادی طور پر غور کر کے دیگر صفات باری تعالٰی سے ان کا تعلق تلاش کرنا ایک مشکل اور دقیق مضمون ہے جس پر ہر کسی کو دسترس نہیں، ہر شخص جس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بات سمجھا دی کہ جو آج میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ تمام صفات باری تعالٰی کا تعلق صرف ربوبیت سے نہیں۔صرف رحیمیت سے نہیں، رحمانیت سے نہیں، مالکیت سے نہیں بلکہ سورہ فاتحہ کے اس پہلے بیان سے ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔یعنی ربوبیت سے نہیں بلکہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رب العلمین سے ہے اور الحمد اللہ رب العلمين الرحمان کے ساتھ ہے اور رحیم کے ساتھ اور مالک کے ساتھ ہے۔گویا اسی حمد کے جوڑ کے ساتھ۔چنانچہ جب میں نے اس پر غور کیا تو میں حیران رہ گیا کہ صرف الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے مضمون میں وہ تمام صفات بھی بیان ہو گئیں جو ہمیں معلوم ہیں اور وہ تمام صفات بھی اس کے اندر شامل ہو گئیں جو ہمیں معلوم نہیں مگر ہم سے زیادہ عالم لوگوں کو معلوم ہیں یا اس زمانے کو معلوم نہیں آئندہ زمانے کو معلوم ہوں گی۔اس مضمون کو میں مزید کچھ کھول کر بیان کرتا ہوں تاکہ پھر آپ غور کے ذریعے اس سے مزید استفادہ کر سکیں۔رب کے بہت سے معانی ہیں۔اگر پیدا کرنے والا اور پرورش کرنے والا اور ترقی دینے والا اور محبت سے خیال رکھنے والا اور روز مرہ کی ضرورتیں پوری کرنے والا اور کمزوریوں کو دور کرنے والا اور غیروں کے شرسے بچانے والا اور حفاظت کرنے والا یہ معنی سامنے رکھیں تو انسانوں میں سے بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں اور بہت سے ایسے وجود جانوروں میں سے بھی ہیں جو اپنے اپنے دائرے میں رب کہلا سکتے ہیں۔مائیں ہیں جو اپنے بچوں کے لئے رب بن جاتی ہیں خواہ وہ انسانی مائیں ہوں یا جانوروں کی دنیا کی مائیں ہوں۔خواہ وہ اونی زندگی سے تعلق رکھنے والی مائیں ہوں یا اعلیٰ زندگی سے تعلق رکھنے والی مائیں ہوں ان سب میں ربوبیت کا مضمون پایا جاتا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تمام صفات کی حامل ہیں پس محض ربوبیت کے نتیجے میں تمام صفات پر حاوی ہونے کا مضمون پیدا نہیں ہوتا اور زبردستی کر کے کوئی انسان کہنا چاہے