ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 99
99 شامل ہو چکا ہو اور کئی قسم کے ایسے شر ہیں جو مخفی طور پر انسان کی دعاؤں میں لگ جاتے ہیں اور ان کے اندر زہر گھول دیتے ہیں۔وہ مقبول دعائیں نہیں رہتیں۔پس اس تفصیل سے آپ کو سمجھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ محض رونے اور گریہ و زاری سے دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں۔دعاؤں کو اپنی مقبولیت کے لئے ایک خاص پاکیزگی اور صحت چاہئیے۔اور جس رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دعائیں مانگیں اور دعائیں سکھائیں اگر وہی رنگ اختیار کریں اور اپنے نفس کو اپنے شر سے بھی صاف رکھیں اور ہر قسم کے دوسرے شرور سے بھی پاک کریں اور خالصتہ اللہ دعا کریں نہ کہ قومی نفرتوں کی بناء پر تو پھر میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالٰی ہماری دعائیں ضرور قبول ہوں گی اور یہ عظیم تاریخی دور جس میں ہم داخل ہوئے ہیں اس کا پلہ بالآخر انشاء اللہ اسلام کے حق میں ہو گا۔اسلام کے غالب آنے کی تقدیر تو بہر حال مقدر ہے یعنی نہ ملنے والی اٹل تقدیر ہے مگر ہماری دعا اور کوشش یہی ہونی چاہئیے کہ اس تقدیر کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے دیکھ لیں۔اس کے بعد اب میں واپس اسی مضمون کی طرف آتا ہوں جس کا میں نے ذکر کیا تھا یعنی سورۂ فاتحہ کے ذریعے نماز میں لذت حاصل کرنا اور سورۃ فاتحہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی صفات کی سیر کرنا اور خدا تعالٰی سے ایک ذاتی تعلق پیدا کرنا۔یہ مضمون تو لامتناہی مضمون ہے لیکن ایک دو اور خطبات اس مضمون پر اس لئے دوں گا تاکہ ہر انسان اپنے اپنے ذوق کے مطابق استفادہ کرتے ہوئے پہلے سے بہتر صحت مند نمازیں پڑھ سکے۔پہلے سے بہتر لذت والی نمازیں پڑھ سکے اور اپنی نمازوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔میں نے یہ بیان تھا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین کے ساتھ جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ چار بنیادی صفات ہیں اور تمام صفات باری تعالیٰ کے لئے یہ ماں کا حکم رکھتی ہیں اور ہر صفت ان میں سے کسی نہ کسی سے پھوٹی ہے یا خاص تعلق رکھتی ہے۔تمام صفات باری تعالیٰ کے تعلق کی کلید مضمون پر غور کرتے ہوئے ایک مرتبہ میں نے دعا کے ذریعے مدد چاہی کہ اللہ تعالی اس کو مجھے پر اور کھول دے تاکہ کوئی ایسا نکتہ میں جماعت کو سمجھا سکوں جس سے ہم اس ہے