ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 101

101 کہ رب کا معنی ہے : ہر صفت کی ماں ہر صفت سے ماں والا تعلق رکھنے والا۔تو یہ درست نہیں ہو گا۔لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ تو یہ تمام جہانوں کا ایسا رب ہے جس کی ربوبیت میں تمام حمد " شامل ہیں اور "حمد" کے سوا کچھ بھی نہیں۔یعنی ربوبیت کے جتنے بھی جلوے ظاہر ہوئے ہیں ہر جلوے پر انسان کہہ سکتا ہے کہ اس جلوہ افروز ہونے والے رب میں تمام صفات حسنہ پائی جاتی ہیں اور حمد پائی جاتی ہے۔ہر تخلیق بے شمار علوم کا تقاضا کرتی ہے پی ایسی ربوبیت جس میں کوئی نقص نہ رہا ہو اور ایسی ربوبیت جو اپنی حمد کی وجہ سے بعض اور صفات کی متقاضی ہو جائے، اس کی بے شمار مثالیں ہیں ، ایک مثال دیتا ہوں۔آپ ایک ٹیلی ویژن کا سیٹ دیکھ لیں۔اس ٹیلی ویژن کے سیٹ میں آپ مختلف ممالک سے آنے والی تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں اور ایک ملک میں دکھائی دینے والی تصویر میں بھی دیکھ سکتے ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ سیٹ کس طاقت کا ہے اور کس قسم کا ہے۔پھر اچھی تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں، بری بھی شور والی بھی کم شور والی بھی شور کے ساتھ بھی اور رنگ بھی مختلف دیکھ سکتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے جب چاہیں اس ٹیلی ویژن کا تعلق جس ملک سے چاہیں فورا کرلیں۔اور پھر بعض دفعہ یہ کہ گھر میں بیٹھے بیٹھے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے جو چاہیں اس سے کروالیں تو ٹیلی ویژن کا ایک سیٹ ہے جس کی یہ عام صفات آپ کو معلوم ہیں کہ بڑی اچھی صفات ہیں لیکن بہت کم لوگ یہ غور کرتے ہیں کہ ٹیلی ویژن بنانے کے لئے کتنے علم کی ضرورت ہے اور کتنے مختلف قسم کے علوم کی ضرورت ہے اور صنعت و حرفت میں کس کس چیز پر کمال کی ضرورت ہے اور اس کے ہر پرزے کے لئے انسانی علم کے کتنے وسیع ذخیرے کی ضرورت ہے۔یعنی انسانی علم تو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا چلا جاتا ہے لیکن محض ایک وقت کا علم کافی نہیں ہوا کرتا۔ترقی کرنے کے بعد اس علم کی ساری تاریخ کا علم ہونا ضروری ہے اور اس کا جو مجموعہ ہے وہ وہ ہے جو باقی گزشتہ علوم کے مراحل پر فضیلت رکھتا ہے۔پس ایک ٹیلی ویژن میں اگر کوئی سیلیکان چپ (SILICON CHIP)