ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 90
90 کی صدر ہیں تو لجنات کو شامل کر لیں۔غرضیکہ جس جس دائرے پر بھی آپ کو کسی کام پر مامور فرمایا گیا ہے ان کو اپنے ساتھ شامل کرلیں۔ایسی صورت میں جب إيَّاكَ نَعْبُدُ کہیں گے تو اس کے ساتھ ہی اپنے نفس کا ایک محاسبہ بھی شروع ہو جائے گا اور انسان یہ سوچے گا کہ کس حد تک میں ان کی نمائندگی کا حق رکھتا ہوں۔کیا میں نے ان کو عبادت کرنے میں اپنے ساتھ شریک کرنے کی کوشش بھی کی ہے کہ نہیں۔کیا میں نے واقعہ " چاہا ہے کہ یہ سارے میرے ساتھ خدا کی عبادت کرنے والے نہیں۔پس اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر ايَّاكَ نَعْبُدُ کے مضمون میں سے کچھ ہوا نکل جائے گی کچھ جان نکل جائے گی۔وہ طاقت اس میں نہیں پیدا ہو سکتی۔پس دیکھیں وہی دعا ہے ایاک کعبہ کی لیکن حالات کے بدلنے کے ساتھ اس کے معنی بدلنے شروع ہو جاتے ہیں۔بعض صورتوں میں یہ بہت قوی دعا بن کے ابھرتی ہے۔بعض صورتوں میں اس میں ناطاقتی پیدا ہو جاتی ہے۔پس ايَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا کا مضمون بہت ہی وسیع اور گہرا ہے۔اس کا ایک طرف رب رحمان رحیم اور مالک سے تعلق ہے اور دوسری طرف کل عالمین سے اس کا تعلق بن جاتا ہے اور آپ رب اور اس کی مخلوقات کے درمیان واسطہ بن جاتے ہیں۔ضمائر کا یہی مضمون آگے بڑھتا ہے اور اب ہم رکوع میں داخل ہوتے ہیں۔آپ نے کبھی سوچا یا نہیں سوچا لیکن یہ تعجب کی بات ضرور ہے کہ رکوع میں جاتے ہیں تو ہم بھی اکیلے اور خدا بھی اکیلا۔سُبحَانَ دَرِي الْعَظِيْمِ - سُبْحَانَ رَتي العظيم - اور یہی سجدے میں حال ہے۔رب العالمین میرا رب بن گیا اور اور یہ بہت دلچسپ بات ہے اور بہت لطف کی بات ہے اور بے انتہا شکر کی بات ہے کہ وہ جو نماز کو سمجھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ ادا کرتے ہوئے رکوع تک پہنچتا ہے اس کو گویا نماز یہ پیغام دے رہی ہے کہ تو نے خدا کی ربوبیت کو عالمین کے اوپر قبول کیا اور سمجھا اور خدا کی ربوبیت کا نمائندہ بننے کی کوشش کی۔تو نے خدا کی رحمانیت کو کل عالمین پر جاری ہوتے دیکھا اور سمجھا اور پھر خود خدا کی نمائندگی میں اپنی رحمانیت کو اسی طرح پھیلانے کی کوشش کی غرضیکہ مالک تک آپ پہنچیں تو ان