ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 89
89 کے حضور جھک جائے تو گویا تمام کائنات خدا کے حضور جھک رہی ہے۔میں ایسا انسان جو عبادت کے وقت اپنا یہ مقام پیش نظر رکھے اس کے رکوع اور سجود میں ایک اور شان پیدا ہو جاتی ہے اور وہ خدا کے حضور اکیلا نہیں چھک رہا ہوتا بلکہ تعبد کے ساتھ جھک رہا ہوتا ہے۔تمام کائنات کا خلاصہ بن کے جھک رہا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جب تعبد کی دعا عرض کرتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم صرف ساری کائنات کا نہیں بلکہ تمام عبادت کرنے والوں کے سردار کے طور پر عرض کیا کرتے تھے کہ اے خدا! اے رب العالمين !! ہم سب جو بھی عبادت کرنے والے ہیں، وہ سب تیرے حضور جھکتے ہیں اور میں ان کا سردار ہونے کی حیثیت سے یہ اقرار کرتا ہوں کہ تو ہی عبادت کے لائق ہے اور تیرے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ہماری سب سرداریاں تیرے حضور سجدہ ریز ہیں۔ہمارے ماتھے تیرے حضور عاجزانہ طور پر اپنے آپ کو مٹی میں رگڑتے ہیں اور گریہ و زاری کرتے ہیں اور عاجزی کا اقرار کرتے ہیں تو جب تمام کائنات کا سردار جس کو خدا نے پیدا کیا خدا کے حضور رکوع کرتا تھا اور سجدے کرتا تھا اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا پڑھا کرتا تھا تو حقیقت میں تمام کائنات اور اس تمام کائنات کا خلاصہ خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔پس اس شان کی عبادت تو آج کسی کے لئے ممکن نہیں ہے۔کیونکہ اگر ممکن ہے بھی تو اس کو استطاعت نہیں ہے یعنی بشری طور پر اس کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عبادت کے برابر پہنچ سکے۔اپنی عبادات میں وسعت دیں اس لئے حسب توفیق اپنی عبادت کو ایسی وسعت دینا ضروری ہے اور اس وسعت کا آغاز اپنے خاندان سے کریں۔ایاک نعبد میں اگر آپ باشعور طور پر باقی چیزوں کو شامل نہیں کر سکتے تو اپنی ہوئی اپنے بچوں اور اپنے عزیزوں کو تو شامل کرلیں۔اگر آپ خدا کی جماعت کی طرف سے کسی عہدے پر مامور ہیں تو ان سب کو شامل کر لیں۔اگر آپ قائد خدام الاحمدیہ ہیں تو خدام کو شامل کر لیں۔اگر لجنہ