ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 91
91 سب باتوں کا جواب پھر خدا کی طرف سے یہ آتا ہے کہ تو نے مجھے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کیا کہ اے خدا! میں تمام بنی نوع انسان کی یا ان سب کی نمائندگی میں جن کو تو نے میرے تابع فرمایا ہے تیری عبادت کرتا ہوں۔اس لئے اب میں تجھ پر تیرا خدا بن کر ابھروں گا اور تجھے یہ حق عطاء کرتا ہوں کہ تو کہہ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے۔اب یہاں جو غائب تھا وہ غائب نہ رہا۔جو سب کا تھا وہ سب کا ہو گا بھی لیکن یہاں اپنا بن کے ابھرا ہے اور میرا رب بن کے ابھرا ہے۔پس جس کا رب عظیم ہو اس کو بھی عظمتوں سے حصہ ملے گا۔اس میں یہ خوشخبری بھی عطا کر دی گئی کہ اب تو عام انسان نہیں رہا۔تو نے ایک ایسی ذات سے تعلق جوڑ لیا اور اس کو اپنا بنا لیا ہے اور وہ تیرا ہو چکا ہے کہ اب اس کی عظمتوں سے تجھے کو حصہ دیا جائے گا اور جب وہ سجدے میں جاتا ہے اور دنیا کی نظر میں بظاہر بالکل ذلیل اور رسوا ہو جاتا ہے یعنی اس سے زیادہ دنیا کی نظر میں انسان کے لئے کیا رسوائی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنا ماتھا کسی کے حضور خاک پر رگڑنے لگے، وہاں اس کے دل سے یہ آواز اٹھتی ہے سُبحان ربی الاعلیٰ۔وہ رب جسے میں نے اپنا بنا لیا ہے، جس نے مجھے اپنا بنا لیا ہے وہ ہر دوسری چیز سے بلند تر اور اعلیٰ ہے اور اس کے مقابل پر کسی اور چیز کی کوئی نہیں تو خدا کے علم میں سے خدا کا بلند مرتبہ ہونے میں سے ان عاجز بندوں کو بھی حصہ عطا کیا جاتا ہے اور اس طرح ضمائر کا مضمون دیکھیں کہاں سے شروع ہو کر کہاں تک پہنچتا اور بظاہر سجدے کی انتہائی جھکی ہوئی حالت میں ہے لیکن اس جھکی ہوئی حالت میں یہ مضمون اپنے معراج کو پہنچ جاتا ہے اور انسان کو یہ سبق دے جاتا ہے کہ اس کی ہر ترقی کا راز اس کے عجز میں ہے۔جتنا زیادہ وہ خدا کے حضور گرے گا اور جھکے گا اتنا ہی زیادہ اسے سربلندی عطاء کی جائے گی۔پس ضمائر کے لحاظ سے بھی آپ دیکھیں تو نماز ایک عظیم الشان پیغام رکھتی ہے اور گہرے سبق رکھتی ہے۔اس کے علاوہ نماز میں زمانوں کو بھی اس رنگ میں استعمال فرمایا گیا ہے کہ ایک بہت ہی دلکش مضمون ہمارے سامنے ابھرتا ہے اور ہمارے دماغوں کو روشن کرتا چلا جاتا