ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 88
88 دعا میں ہم نے اپنی طرف جمع متکلم کا صیغہ لگالیا اور خدا کی طرف واحد مخاطب کا۔یعنی خدا کو تو کہا اور اکیلا کر دیا۔اپنی تمام صفات کے باوجود خدا تعالیٰ کی ایک ایسی ہستی کا تصور ہمارے سامنے ابھرا جو غیر منقسم ہے، جو جمع تفریق نہیں ہو سکتی اور واحد ہے۔اس دعا مانگی تو اس وہم میں مبتلا ہو کر نہیں کہ چونکہ صفات زیادہ ہیں اس لئے ہو سکتا ہے خدا تعالٰی بھی کئی قسم کے مختلف وجود رکھتا ہو اور اپنے آپ کو جمع کردیا گویا تمام کائنات کی نمائندگی اختیار کرلی۔رب العالمین کا تصور ایک نئے رنگ میں ہمارے سامنے ابھرا اور ہم نے یہ سوچا کہ جب وہ سب جہانوں کا رب ہے تو اس سے تعلق رکھنے کے لئے ہم سب کی نمائندگی میں کیوں نہ اس سے مانگیں کیونکہ وہ سب کا ہے۔اگر سب کی طرف سے ہم مانگیں گے تو ہماری دعا میں زیادہ اثر پیدا ہو گا اور ہم بھی اس کی رب العالمین ہونے کی صفت میں حصہ پالیں گے۔پس ایالت تعبد کی دعا نے یہ دونوں باتیں ہمیں سمجھا دیں کہ رب اپنی تمام صفات کے باوجود اکیلا بنی ہے اور کائنات پھیلی پڑی ہے اور بے شمار ہے۔انسان اپنی ذات میں اس ساری کائنات کو مجتمع کر سکتا ہے اور اس ساری کائنات کی نمائندگی میں خدا سے دعا کر سکتا ہے اور یہ دعا وا قعتہ " تمام کائنات کی نمائندگی میں ہو سکتی ہے کیونکہ جب ہم کہتے ہیں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ تو در حقیقت ہم عبادت کا حق ادا کریں یا نہ کریں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ ساری کائنات واقعہ " عبادت کر رہی ہے۔تو یہ محض ایک مبالغہ آمیزی نہیں ہے یا محض ایک ذوتی نکتہ نہیں ہے بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتے ہیں کہ اے خدا صرف تیری ہم سب عبادت کرتے ہیں یعنی کل عالمین، تو بالکل سچ بات کر رہے ہوتے ہیں اور چونکہ تمام کائنات کا نماینده انسان واقعہ " ہے۔اس میں تمام کائنات کا شعور خلاصے کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے اور سب سے اعلیٰ شعور انسان کو عطاء کیا گیا ہے اس لئے بحیثیت مخلوقات میں سے افضل ہونے کے وہ نمائندگی کا حق بھی رکھتا ہے۔تمام کائنات کا خدا کے حضور جھکنا پس جو تخلیق میں سب سے افضل ہے وہ جب عبادت کا اقرار کرلے اور خدا