ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 79 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 79

79 والسلام نے فرمایا کہ جب تم وہ سب کچھ خدا کے سپرد کردو جس کا مالک تمہیں بتایا گیا تھا تو پھر اللہ تعالٰی اپنی ملکیت میں تمہیں شریک کر لیتا ہے اور ایک نئی شان کے ساتھ ایک نئی تخلیق کے ساتھ تم ابھرتے ہو اور ان معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گویا اس تمام کائنات کی ملکیت میں خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے شریک کر لیا اپنی عطاء کے ذریعے شریک کر لیا جو خدا تعالی کا تھا یعنی جو سب کچھ بندے کا تھا وہ اس نے خدا کے سپرد کر دیا اور خدا چونکہ احسان کرنے والوں کے احسان کی سب سے زیادہ شکر گزاری کرتا ہے اور احسان کو تسلیم فرماتا ہے۔کوئی بندہ اس رنگ میں کسی کے احسان کو قبول نہیں کرتا جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو ایک رنگ میں بندے نے احسان کا سلوک کیا اس سے بڑھ کر اللہ تعالٰی نے احسان کا سلوک فرمایا اور کہا تو نے جو کچھ تیرا تھا مجھے دے دیا اب میرا جو کچھ ہے وہ تیرا ہو گیا۔انہیں معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ جے توں میرا ہو رویں سب جگ تیرا ہو کہ اے بندے اگر تو میرا ہو جائے یعنی اپنی مالکیت کو ختم کر کے سب کچھ مجھے واپس لوٹا دے تو اس کے بدلے جو سب کچھ میرا ہے وہ تیرا ہو جائے گا تو مالک کا لفظ ایک بہت ہی عظیم الشان صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ان معنوں میں ہر دوسری چیز پر حاوی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت مالک کے ساتھ مل کر ایک نئی شان کے ساتھ دوبارہ ابھرتی ہے اور نئی شان کے ساتھ جلوہ دکھاتی ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تو اس میں صفت مالکیت خصوصیت کے ساتھ پیش نظر رہنی چاہیے اور ربوبیت ، رحمانیت رحیمیت ان سب کو مالکیت کی ذات میں اکٹھا کر کے پھر خدا کو مخاطب کرنا چاہیے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نستعین ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔مغضوب اور ضالین کا خدائی صفات سے تعلق اس مضمون کے بعد میں نے انعام کا مضمون مختصرا" بیان کیا تھا، اب آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مغضوب اور ضالین کا خدا تعالیٰ کی ان صفات سے کیا تعلق ہے جو