ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 78

78' کچھ ہمیں دیا ہو اپنی جان مال عزت ہر چیز جس کا اقتدار خدا نے ہمیں دیا، جس کی ملکیت خدا نے ہمیں عطاء فرمائی ہم اپنے رب کو اس طرح لوٹا دیں کہ اے خدا!! تو نے جس چیز کا ہمیں مالک بنایا تھا ہم اس راز کو پاگئے ہیں کہ اصل مالک تو ہے۔پس پیشتر اس سے کہ تو ہم سے واپس لے لے ہم طوعی طور پر محبت کے اظہار کے طور پر یہ تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں۔آج کے بعد جیسے بعد میں تو نے مالک بنتا ہے ایسے آج بھی تو ہماری ان سب چیزوں کا مالک بن گیا ہے۔اس مضمون کو حضرت اقدس سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان بیان کرنے کے لئے استعمال فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تمام دوسرے انبیاء پر جو ایک عظیم فضیلت ہے وہ خصوصیت سے اس بات میں ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنا سب کچھ کلیتہ " اصل مالک کو اسی دنیا میں لوٹا دیا اس طرح کسی اور انسان نے ایسا نہیں کیا یعنی باریک ترین جذبات کو بھی خدا کے سپرد کئے رکھا، اپنی ملکیت کے ہر حصے کو کلیته " خدا کے سپرد کر دیا۔اپنی رضا کو کلیتہ خدا کے سپرد کر دیا۔اپنی محبت کو اپنی نفرت کو ہر چیز کو جس پر انسان کوئی قدرت رکھتا ہے اپنے رب کو واپس کر دیا کہ تو ہی حقیقی مالک ہے اس لئے آج میں یہ سب کچھ تیرے سپرد کرتا ہوں اور تیری رضا کے تاریخ میں ان چیزوں کو استعمال کروں گا۔قلدان صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمينَ (سورة الانعام : آیت (۱۹۳) خدا نے اس راز کو خود کھولا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم شاید اس تفصیل سے بنی نوع انسان پر اپنا یہ مقام روشن نہ فرماتے مگر قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے آپ کو حکم دیا کہ اے محمد اپنی نوع انسان کے سامنے اعلان کر کہ میں وہ ہوں جس نے اپنا سب کچھ خدا کے سپرد کر دیا ہے اور میرا ایک ذرہ بھی باقی نہیں رہا۔إن صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي عبادتیں کیا میری قربانیاں کیا میری زندگی کا ہر حصہ میری موت یعنی خدا کی راہ میں جو میں لمحہ لمحہ مرتا ہوں سب کچھ خدا کے لئے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ میری