ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 77

77 رکھتا۔پس رب رحمان اور رحیم یہ تین صفات بہت ہی حسین اور دلکش ہیں لیکن اگر مالک سے الگ رہیں تو محدود ہو جاتی ہیں لیکن مالک کے ساتھ جب مل جاتی ہیں تو پھر ایک عظیم الشان جلوہ دکھاتی ہیں جس کا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔ان معنوں میں انسان تو مالک نہیں بن سکتا لیکن انسان خدا کی مالکیت کے کچھ نہ کچھ مزے چکھ سکتا ہے اگر وہ اپنی ملکیت میں لوگوں کو شریک کرے اور لوگوں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے جیسا کہ مالک ہونے کی وجہ سے ہمارا رب ہمیں معاف کر دیتا ہے۔پس یہ نہیں کہ حاکیت کی صفت سے ہم کچھ بھی حصہ نہیں لے سکتے۔اپنے اپنے دائرے میں جس حد تک ہمیں خدا تعالٰی نے کسی چیز کا مالک بنا رکھا ہے اس کا استعمال اس رنگ میں کریں جیسے خدا مالک ہے اور اپنی ملکیت کا استعمال فرماتا ہے اور اس میں بخشش کا مضمون سب سے زیادہ نمایاں ہو کر ابھرتا ہے اور اپنی چیزیں دوسروں کو دینے کا مضمون بڑا نمایاں ہو کر نکلتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور رنگ بھی ہے جس میں ہم مالک بننے کی کوشش کر سکتے ہیں اور وہ مضمون ایک بہت ہی لطیف اور اعلیٰ درجے کا مضمون ہے جس کی طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ہمیں متوجہ فرمایا۔مالک خدا کا تصور ہمیں بتاتا ہے کہ باوجود اس کے کہ کلیتہ " ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر پورا اقتدار رکھتا ہے اس کے باوجود بندوں کو اور دوسری چیزوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں بعض دفعہ اس رنگ میں مالک بنا دیتا ہے کہ وہ اپنے زعم میں واقعہ " مالک بن بیٹھتے ہیں اور ملک دیگر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے اور روز مرہ اصل مالک دکھائی نہیں دیتا اور کھیتہ ” انسان کو یا جانوروں کو زندگی کی ہر قسم کو کہنا چاہیے اپنے اپنے چھوٹے سے دائرے میں بعض دفعہ اس طرح ملکیت عطا ہو جاتی ہے کہ زندگی کی وہ قسم جو بھی ہے وہ یہ سمجھتی ہے کہ میں ہی مالک ہوں اور کوئی نہیں اور بیچ میں دخل اندازی نہیں رہتی۔یہ اس قسم کا مضمون ہے کہ عارضی طور پر معطلی نے جس کو عطا کیا اس کو اس رنگ میں عطا کیا کہ گویا وہی مالک ہے اور اپنی مرضی اس سے اٹھالی اور دوسرے کی مرضی کے تابع کر دیا۔ان معنوں میں انسان اپنے رب سے ایک خاص سلوک کر سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو