ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 61

61 ایک نئی شکل میں آپ کے سامنے ظاہر ہوتا ہے یعنی خدا تعالی ایک پہلو سے رب بنتاً ہے اور دوسرے پہلو سے بظا ہر ربوبیت کی نفی ہو رہی ہوتی ہے۔ایسی صورت میں ایک بنیادی قانون ہے جو ہمیشہ کار فرما ہے اور وہ یہ ہے کہ بہتر کے لئے اونی کو قربان کیا جائے گا۔یہاں ربوبیت ایک اور رنگ میں آپ کے سامنے ابھرتی ہے مگروہی بچہ جب آگے بڑھتا ہے اور ایک ایسے جانور کو جو خدا نے خوبصورتی کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کے کھانے کے کام نہیں آسکتا یا ایسے جانور کو جو خدا تعالیٰ نے صفائی کے لئے مقرر فرمائے ہوئے ہیں یا اور مقاصد کے لئے پیدا کئے ہیں، ان کو محض مارنے کی نیت سے مارتا ہے تو یہاں ربوبیت سے وہ اپنا تعلق توڑ لیتا ہے اور واضح طور پر ربوبیت کی حدود سے باہر قدم رکھتا ہے تو بظاہر ایک ہی فعل ہے یعنی جانور سے تعلقات کے دوران کسی جانور کو ذریح کرنا یا شکار کرنا اور کسی جانور کی جان بخشی کرنا۔لیکن یہ ایک فعل نہیں رہتے جب آپ ان افعال کو مختلف حالات میں ربوبیت کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھتے ہیں۔پھر جانور جو ضرورتمند ہیں، جو مصیبت میں مبتلا ہیں ان کے لئے آپ نے مغربی قوموں میں خاص طور پر ربوبیت کے جذبے دیکھے ہوں گے جو بد قسمتی سے مسلمانوں میں نسبتا کم پائے جاتے ہیں تو ایک ہی چھوٹی سی مثال سے جو رستہ کھلتا ہے وہ ایک لامتناہی سفر بن جاتا ہے۔انسان کے گردو پیش سے تعلقات میں بے شمار قسم کے تعلقات ممکن ہیں اور ہر تعلق میں جب آپ آگے قدم بڑھاتے ہیں یا نئے تجارب حاصل کرتے ہیں، جب لاشعوری تعلقات اچانک شعور میں ابھرتے ہیں تو وہ اوقات ہوتے ہیں جب آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں اور رب العالمین سے اپنے تعلق کو یا قائم کر سکتے ہیں یا منقطع کر سکتے ہیں۔پھر ربوبیت کے دائرے میں بالعموم جیسا کہ آپ سب جانتے ہی ہیں غرباء سے تعلق ہے۔خدا کے مصیبت زدہ بندگان کی مصیبتوں کا حل ہے اور اس کے بر عکس ایسے افعال ہیں جو منفی اثر پیدا کرنے والے ہیں۔ایک آدمی اگر ایک غریب سے ہمدردی نہیں کر سکتا تو اس کی ربوبیت کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ افسانوی ربوبیت ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں رب سے محبت کرتا ہوں لیکن حقیقت میں نہیں کیونکہ ویسا بنا نہیں چاہتا لیکن ایک شخص جب ربوبیت سے برعکس تعلقات کسی سے قائم کرتا ہے۔کسی غریب کا حق مارتا