ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 60

60 دوسرے بچوں سے اس کا منفی سلوک ہوتا ہے تو وہیں رب العالمین کا مضمون منقطع ہو جاتا ہے۔ایسی ربوبیت جو محدود دائرے سے تعلق رکھتی ہو اس وقت تک قابل قبول ہے جب دائرہ وسیع ہو تو تب بھی ربوبیت جاری رہے اور منقطع نہ ہو جائے۔لیکن ماں کی اپنے بچوں سے محبت اسی وقت ربوبیت کی تعریف سے باہر قدم نکال دیتی ہے جبکہ ماں کے تعلقات دوسرے بچوں سے اور دوسرے بنی نوع انسان سے منفی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے مگر اس کو آپ انسانی دائروں پر پھیلائیں تو آپ کے لئے اپنا جائزہ لیتا بہت ہی آسان ہو جاتا ہے۔جب بھی آپ کسی سے تعلقات قائم کرتے ہیں تو وہ ایک لمحہ اپنے نفس کی اندرونی حالت کو جانچنے کا ہوتا ہے۔تعلقات کسی قسم کے قائم ہو رہے ہیں کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا ان تعلقات میں ربوبیت کا کوئی عصر ہے بھی کہ نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آپ کے تعلقات کو وضاحت سے کھول کے آپ کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے اور جب بھی تعلقات کروٹیں بدلتے ہیں اور لاشعوری حالت سے شعور میں ابھرتے ہیں تو وہ وقت بھی ایسے ہوتے ہیں جب آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ آپ واقعہ " رب العالمین بننے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں۔بعض تعلقات جاری و ساری ہیں اور وہ ایک قسم کے لاشعور میں رہتے ہیں۔مثلاً اپنے ماحول سے گردو پیش سے جانوروں سے تعلقات، یہ اگر چہ دبے ہوئے تعلقات ہیں لیکن ہیں سہی۔کیونکہ جس کائنات میں ہم سانس لے رہے ہیں یہاں لازما " ہمارے اس سے تعلقات ہیں۔ایک بچہ چھوٹی سی بندوق لے کر شکار پر نکلتا ہے اور جب وہ شکار کرتا ہے تو اس کا جانور سے ایک قسم کا تعلق قائم ہوتا ہے۔یہ لاشعور سے شعور میں ابھر آتا ہے۔اس وقت اگر وہ شکار کرتا ہے اور ربوبیت پر نظر رکھتے ہوئے ان معنوں میں خدا کی حمد کرتا ہے کہ مالک وہی ہے اور رب بھی وہی ہے اس نے ہر شخص کے رزق کے انتظام فرمائے ہوئے ہیں اور میرا جو اس جانور سے تعلق ہے بظاہر میں شکاری ہوں لیکن یہاں خدا کی ربوبیت میرے لئے جلوہ دکھا رہی ہے جس طرح اس پرندے کے لئے اس نے اس وقت جلوے دکھائے جب یہ چھوٹے چھوٹے جانوروں کا شکار کر کے خدا کی ربوبیت کے مزے چکھتا تھا تو ربوبیت کا مضمون بظاہر اس صورت سے متصادم ہونے کے باوجود