ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 493
493 اللہ کی عظمت انسان کو اپنی پاکیزگی کی طرف متوجہ کرتی ہے لفظ العظيم" اور سُبْحَانَ رَ الْعَظیم میں ایک ایسا خوبصورت مضمون ہے جو ختم نہ ہونے والا ہے اور ہر انسان اپنی کیفیت کے مطابق اپنے حالات کے مطابق اپنے رب سے اس وقت کے حالات کے مطابق اس کی عظمتوں کے مختلف تصورات سے سُبحان ربی العظیم میں نئے رنگ بھر سکتا ہے علاوہ ازیں یہ قابل غور بات ہے کہ سورۂ فاتحہ نے تو ایک خدا سے غائبانہ تعارف کروایا اور اس خدا کو آپ نے نصف سورۃ کے بعد مخاطب کرنا شروع کیا لیکن وہ تخاطب جمع کی حالت میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ تمام کائنات پر حاوی خدا ہے۔کوئی ایک ہے۔وجود بھی اس کی ربوبیت سے باہر نہیں ہے اور اس کی حمد کا ترانہ خواہ انسان با شعور ہو خواہ زندگی کی دوسری شکلیں ہوں، خواہ جمادات ہوں وہ سارے اپنے اپنے رنگ میں ہمیشہ گاتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ ایک عام حالت ہے اس میں ذاتی تعلق کا پیدا ہونا ابھی انتظار چاہتا ہے اس انتظار کی حالت کو خدا نے ایاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے ذریعہ ختم فرما دیا اور ایک ذاتی تعلق قائم فرما دیا اس رب سے جو سب کا سانجھا رب ہے لیکن یہاں بھی اجتماعی رنگ ہے۔ہم اے خدا ! تیری عبادت کرتے ہیں یا تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں یا تیری عبادت کریں گے اور تیری ہی عبادت کریں گے لیکن مدد بھی تجھ سے چاہیں گے لیکن یہاں ابھی تک ایسا تعلق قائم نہیں ہوا کہ آپ یہ کہہ سکیں کہ میرا رب ہے۔یہ تعلق ایک اونی قدم تعلق کا ہے اور یہ تعلق اطاعت کے بغیر قائم نہیں ہوا کرتا۔زبانی تعریف کے ذریعہ کوئی چیز آپ کی نہیں ہو سکتی۔جب آپ عمل کی شکل میں اس کا بننے کی کوشش کرتے ہیں تب وہ آپ کی ہو جاتی ہے تو رکوع نے بتایا کہ وہ رب جو آپ سب کا ہے وہ آپ کا بھی تو ہونا چاہئیے یعنی آپ کی ذات کا بھی تو ہونا چاہئے اور اگر آپ واقعی سچے دل سے اس کی تعریف کر رہے ہیں اور اس سے دعائیں کر رہے ہیں تو اس کو اپنانے کے لئے آپ کو خود ذاتی طور پر اس کے سامنے سر جھکانا ہو گا اور اطاعت کرنی ہوگی۔جب آپ اطاعت کے ذریعہ اس کے ہوں گے تب آپ کو یہ حق دیا جائے گا کہ یہ اعلان کریں۔سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّي