ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 492
492 کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم نے سورۂ فاتحہ میں جس خدا کی عظمت کا نظارہ کیا تھا اس خدا کے قریب تر ہو گئے ہیں اور اتنا قریب ہوئے ہیں کہ اس کے حضور جھک گئے اور اس کی اطاعت کو قبول کر لیا ورنہ دور کا خدا اطاعت کروانے کے لئے کافی نہیں۔خدا کی اطاعت حقیقی معنوں میں سبھی ہو سکتی ہے جب اس کی عظمت کا احساس ہو اور عظمت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرب کو چاہتی ہے۔پس رکوع نے اس مضمون کو مکمل کر دیا۔یہ اطاعت کی حالت ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بھی بیان فرمایا : والعوامة الراكومنين یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاں تم لوگوں کو رکوع کرتے دیکھو تم بھی ساتھ اسی طرح بدن جھکا کر رکوع کر لو۔مراد یہ ہے کہ جہاں بھی تم خدا کے بندوں کو اطاعت کرتے ہوئے دیکھو تم بھی اسی طرح اطاعت میں ساتھ شامل ہو جایا کرو۔کیونکہ خدا کی اطاعت کا مضمون زندگی کے ہر شعبہ پر ہر حال پر حاوی ہے۔اس پہلو سے جب آپ سُبْحَانَ رَبّي العَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيمِ سبحان ربی العظیم کہتے ہیں تو عظمتوں کا مضمون بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔همتیں ہر صورت حال پر مختلف رنگ میں اطلاق پاتی ہیں۔پہاڑ کی عظمت اور ہے۔ایک جانور کی عظمت اور ہے۔ایک انسان کی عظمت اور ہے اور خدائے ذوالمجد والعلا کی عظمت اور ہے۔وہ خدا جس کی عظمت کو سورۂ فاتحہ نے ہمیں سمجھایا اس کی عظمت کو قریب سے دیکھنے کے نتیجہ میں روح بے اختیار رکوع میں جاتی ہے۔اور جسم کا رکوع اس کے تابع ہوتا ہے۔اس سے پہل نہیں کرتا۔پس جب آپ قیام کے وقت کے مضامین کو خوب اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لیں تو اس وقت آپ کے دل پر ایک ایسی کیفیت طاری ہونی چاہئیے جس کے نتیجہ میں روح جھکتی ہو اور بدن بھی ساتھ جھکنے کے لئے ہے اختیار ہو جائے۔ایسی حالت کا نام رکوع ہے اور اس کے بعد جب آپ عظمت کے مضمون پر رکوع کی حالت میں غور کریں گے تو تین دفعہ کا یہ اعتراف که سُبْحَات ترتي العظيم آپ کو بہت ہی مختصر سا دکھائی دے گا۔اس لئے ساری زندگی کے رکوعوں میں آپ کے لئے مختلف سوچوں کا انتظام فرما دیا گیا ہے۔