ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 462
462 خدا اگر حق ہے تو ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اس حق کو قبول کر لیں۔یہ کہنا چاہیئے تھا کہ اگر یہ جھوٹا ہے تو ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم اس کو نہ مانیں۔لیکن اگر حق ہے تو پھر ہم پر رحمتیں نازل فرما اور ہمیں توفیق عطا فرما۔یہ دعا مانگ بیٹھا کہ اگر حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش نازل فرما۔لیکن یہ ابو جہل کی فطرت ہے یہ ہر زمانے میں دہرائی جاتی ہے۔بعض لوگ ہم نے دیکھے ہیں یہ کہتے ہیں کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق خدا آسمان سے اتر کر ہمیں کہے کہ یہ سچا ہے تب بھی ہم نہیں مانیں گے۔تو یہ جو فطرت ہے بغاوت کی یہ شیطانی فطرت ہے۔اور خدا آسمان سے خود اتر کر کہے کہ یہ سچا ہے تو ہم نہیں مانیں گے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے جو شیطان کا مکالمہ گزر چکا ہے اس میں یہ بات کھل کر ثابت ہو چکی ہے۔شیطان جانتا تھا کہ خدا حق ہے۔اور شیطان جانتا تھا کہ خدا نے آدم کو حق قرار دیا ہے۔اور اس کے باوجود وہ دیکھو کیسی بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے اے خدا میں پھر بھی نہیں مانوں گا اور تو مجھے مہلت دے تاکہ قیامت تک میں ان لوگوں کے رستے پر بیٹھوں۔اس دعا سے یہ معاملہ بھی سمجھ آگیا کہ شیطان کن لوگوں کے بھیس میں ان رستوں پر بیٹھا کرتا ہے۔ہر نبی کے دور میں جیسے آدم کے دور میں ایک شیطان نے خدا سے یہ مکالمہ کیا۔عملاً ایسے ابلیس پیدا ہوتے رہتے ہیں جو بعینہ ہی بات کہتے ہیں کہ اے خدا تو نے ہمیں بتا دیا تب بھی ہم نہیں مانیں گے۔اور آدم کی کہانی ہر دور میں دہرائی جاتی ہے۔پس ان مغضوب علیم کی دعاؤں سے اور جو مکالمہ انہوں نے خدا سے کیا ہمارے لئے ہمیشہ کے لئے گہری صیحتیں ہیں۔اللہ تعالٰی ہمیں ان سے استفادہ کی توفیق بخشے۔مغضوب علیھم کی چھپی ہوئی دعا سورۂ یونس آیت ۲۲ تا ۲۴ کی ایک دعا ہے جو مَغْضُوب علی کی طرف منسوب ہے۔مغضوب علی کا مضمون تو ہے لیکن یہ ذرا مضمون میں چھپا ہوا لپٹا ہوا مضمون ہے۔فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي يُسَيَرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وہی خدا ہے جو تمہیں خشکیوں اور سمندروں میں سفروں پر لے جاتا ہے۔اور سفر کی سہولتیں تمہیں عطا فرماتا ہے۔حتى إذا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ یہاں تک کہ