ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 463

463 جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو۔وَجَرينَ بِهِمْ بِرِيح طيبة کشتیاں ٹھنڈی خوشگوار ہواؤں کے ساتھ ان کو لیکر سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔بیا اور وہ اس سے بہت خوش ہو جاتے ہیں جَاءَ تقاريه عاصف اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ہوا میں تیزی آجاتی ہے۔اور تنک ہوائیں چلنے لگتی ہیں وجاءَهُدُ لَمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ اور ہر طرف سے موجیں ان کو گھیر لیتی ہیں۔وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أَحِيْطَ بِهِمْ اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ان موجوں کے گھیرے میں آچکے ہیں۔دعوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّين وہ اس وقت پورے اخلاص کے ساتھ اپنے دین کو سچا قرار دیتے ہوئے خدا سے یہ عرض کرتے ہیں لون انجَيْتَنَا مِن هَذِهِ لَتَكُونَنَّ مِنَ الشكرين اے خدا اگر اس بار اس مصیبت سے تو ہمیں نجات بخش دے تو ہم یقیناً تیرے شکر گزار بندے بن جائیں گے۔فلما انجيهُمْ إِذَ هُوَ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ پھر جب اللہ تعالی ان کو نجات بخش دیتا ہے۔تو وہ دنیا میں اسی طرح ناحق بغاوت کرتے پھرتے ہیں۔جس طرح پہلے کیا کرتے تھے۔اور خدا کے معصوم بندوں کو ستاتے ہیں۔ياتِهَا النَّاسُ إِنَّمَا يُغَيكُمْ عَلَى انْفُسِكُمْ مَتَاعَ الحيوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ الَّيْنَا مَرْجِعُكُمْ فتنبِئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ کہ اے لوگو سن لو کہ تمہاری بغاوت بالآخر تمہارے ہی خلاف ہوگی۔متاع الحيوةِ الدُّنْيَا اور یہ جو نفع کی باتیں کرتے ہو یہ تو عارضی دنیا کا نفع ہے بالا خر تم ہماری طرف لوٹ کر آنے والے ہو اور تب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تمہارے اعمال کی کیا حقیقت تھی۔اس دعا کو مغضوب علیم کی دعا میں نے اس لئے کہا ہے کہ بالآخر یہ لوگ اپنے وعدوں سے مل جاتے ہیں اور بہت جاتے ہیں۔مگر مصیبت کے وقت کی یہ دعا بذات خود مغضوب علیم کی دعا نہیں اسی لئے میں نے کہا کہ یہ لیٹی ہوئی سی دعا ہے۔ہر وہ شخص جو نیک ہو یا بد ہو جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس قسم کی دعائیں کیا کرتا ہے۔لیکن بعض ان میں سے ایسے ہیں جو مغضوب بھی ہیں۔جو جھوٹے ہیں دھوکہ دینے والے ہیں۔خدا سے وعدے کرتے ہیں اور پھر ان وعدوں سے ہٹ جاتے ہیں۔ان لوگوں کے