ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 453
453 النَّارُ منو بكُم خُلدين فيها الله تعالیٰ فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے تم اس میں لمبے عرصے تک رہو گے الا ماشاء الله سوائے اس کے کہ اللہ اس بلا کو ٹالنے کا فیصلہ فرما لے۔ان ربك حرعیہ علیہ - اللہ تعالی بہت حکمتوں والا اور بہت جاننے والا ہے۔ان آیات میں بظا ہر دعا پیش نہیں کی گئی مگر ایک ایسی حالت بیان کی گئی ہے جس کے نتیجے میں اپنی حالت خدا کے حضور پیش کرنے والے رحم کی تمنا کرتے ہیں۔یہ دعا جو عذاب کے سامنے حاضر ہونے کے بعد بعض لوگ کریں گے نسبتاً زیادہ مطالعہ کی محتاج ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ یہاں جن سے کیا مراد ہے۔انس سے کیا مراد ہے اور کیا بات پیش کی جارہی ہے۔پہلی بات تو یہ ہے فرمایا مَعْشَرَ الْجِن قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْإِنْسِ اے جو تم نے لوگوں میں سے عوام الناس میں سے اکثر سے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر جن وہ مخلوق ہے۔جس کے متعلق عوام الناس میں مشہور ہے اور خاص طور پر ملا لوگ مشہور کرتے رہتے ہیں کہ یہ انسانوں سے ہٹ کر ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیں نظر نہیں آتی۔اس کے متعلق کب انسان کے سامنے یہ بات آئی ہے۔کب انسانی تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ ان فرضی جنوں نے بھاری تعداد میں - انسانوں سے فائدہ اٹھایا ہو۔اور ان کو اپنا غلام بنا لیا ہو۔کوئی اتفاق سے کہیں کوئی ایسا ریض ملتا ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کو چن چڑھ گیا اور اس نے اس کو قابو کر لیا۔پس یہاں لازما " جن سے مراد کچھ اور ہے۔اور ہی معنی ہیں جو جماعت احمدیہ کی تفاسیر میں ہمیں ملتے ہیں۔یعنی جن سے مراد بڑے لوگ ہیں۔اور جب خدا جن اور انس کا ذکر ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر فرماتا ہے تو اس سے ہمیشہ مراد Capitalist اور Proletariat یعنی عوام الناس اور بورژوا لوگ ہیں ایک دوسرے کے مقابل پر یعنی بورژوا کے مقابل پر Proletariat۔جو بڑی بڑی استحصالی طاقتیں ہیں مثلاً مغربی طاقتیں Capitalist ان کے مقابل پراشترا کی طاقتیں اور بڑے