ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 452

452 ہو جاتا ہے تو پھر دوبارہ وہی حرکتیں کرتا ہے۔ایسے طالب علم آپ نے دیکھے ہوں گے اور میں ذاتی تجربے کے طور پر بھی جانتا ہوں کہ جب امتحان سر پر آجایا کرتا تھا تو ہم بہت توبہ کیا کرتے تھے کہ اگلی دفعہ جب نئے سال ترقی کریں گے تو پھر شروع سے ہی کتابیں اچھی طرح سنبھال کر رکھیں گے۔خوب پڑھیں گے محنت کے ساتھ اس دفعہ کسی طرح یہ بلا ٹل جائے۔اور ایسے طلبا جو یہ باتیں کرتے ہیں جب بھی بلا ملتی ہے دوبارہ پھر بالکل ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔دنیا کے امتحانوں میں تو کوئی ایسی بات نہیں۔مگر جب خدا کے حضور ایسے وعدے کئے جائیں اور بار بار پہلی حالت کی طرف رجوع کیا جائے تو پھر قیامت کے دن خدا تعالی کا یہ جواب دیکھیں کیسا بر حق ہے کہ تم وہی تو ہو جو پہلے اسی قسم کی باتیں کیا کرتے تھے۔آج اگر ہم یہ عذاب ٹال دیں اور تمہیں واپس لوٹا دیں تو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ تم پھر دوبارہ وہی حرکتیں کرو گے جو اس سے پہلے کرتے چلے آئے - پس ایسی باتیں کرنا جب پکڑ کا وقت آجائے اور امتحان کا وقت ختم ہو جائے بالکل بے معنی اور لغو باتیں ہیں۔ایسی دعا سے استغفار اور اس کے مواقع سے استغفار کرنا چاہیے۔سرمایہ داروں کے ذریعہ غریبوں کا استحصال سورہ انعام کی ایک دعا ہے ۱۳۹ آیت میں۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وقال أوليتهم من الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَم بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وبَلَقْنَا اجلنا الذي أجلت لنا قَالَ النَّارُ مَثوكُم خلدين فيها الا مَا شَاء اللَّهُ إن ربك معه عليه فرماتا ہے يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا جب اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔نِمَعْشَرَ الْجِن قد اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْإِنْسِ اے جنوں میں سے سردارو اور بڑے لوگو تم نے عوام الناس کا خوب استحصال کیا ہے۔و قَالَ اورتهم من الانس عوام الناس میں سے جو بڑے لوگ ہیں وہ خدا کے حضور یہ عرض کریں گے۔رَبَّنَا اسْتَمْتَم بَعْضُنَا بِبَعْضٍ اے خدا ہم میں سے بعض نے بعض کا استحصال کیا ہے بلعْنا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَلْتَ لَنَا - یہاں تک کہ وہ مدت جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرما ر کھی تھی وہ پوری ہوئی۔قال