ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 454

454 آدمیوں کے مقابل پر چھوٹے غریب بے کس عوام یہ مقابلہ ہمیشہ کیا جاتا ہے جن اور انس کے ذریعے۔اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ لفظ استحصال کا ذکر یہاں خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ہمیشہ اشتراکیت کی طرف سے یہی آواز اٹھائی گئی ہے کہ مغربی Capitalist طاقتیں استحصالی طاقتیں ہیں اور سائنٹفک سوشلزم کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ بعض لوگ بعض غرباء کا استحصال کرتے ہیں اور اس کے رد عمل کے طور پر ایک اشتراکی نظام وجود میں آیا۔تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ ہم بڑے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے تواسْتَكْرْتُمْ مِنَ الْإِنسِ تم نے عوامی طاقتوں کو زیر کر لیا ہے۔اور ان سے بہت سے استفادے کئے ہیں۔ایسے استفادے جو استحصال کہلاتے ہیں۔جو جائز نہیں ہیں یہ ایک دور تو وہ تھا جو جنگ عظیم سے پہلے کا دور تھا جبکہ اشتراکی نظام مقابل پر ابھرا نہیں تھا اور اس وقت ایک ہی Capitalist نظام تھا جو ساری دنیا کو زیر کئے ہوئے تھا۔ایک اب وہ دور ہے جس میں ہم واخل ہو رہے ہیں۔اس میں پھر Capitalist نظام اکیلا رہ گیا ہے۔اور اکثر عوامی نظام کو اس نے زیر منقار کر لیا ہے اپنی لگام کے نیچے لے لیا ہے۔وقال أوليتهم من الانْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ یہ ذکر چل رہا ہے قیامت کے دن ان دونوں گروہوں کو سزادی جائے گی۔یہ پس منظر ہے اس آیت کا۔انسان اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے اس وقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو عوام الناس ہیں وہ یہ عرض کریں گے کہ اے خدا یہ لوگ غالب تھے اور طاقتور تھے۔انہوں نے ہمارا استحصال کیا۔اور اس استحصال کے نتیجے میں ہم سے بدیاں سرزد ہوئیں۔ہم ان کے پیچھے چل پڑے اور اس معاملے میں ہم مجبور تھے۔اس کے جواب میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے۔قالَ النَّارُ مَثْوَبِكُمْ خَيدِينَ في مَا شَاء الله کہ یہ کوئی ایسی مجبوری نہیں ہے جس کے نتیجے میں انسان خدا کو چھوڑ دے اور راہ راست سے ہٹ جائے۔اس لئے اگر دنیا میں انہوں نے تمہارا استحصال کیا تو اس کا یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ تم گناہوں پر مجبور ہو گئے اور صراط مستقیم چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔اس لئے یہ عذر قبول نہیں ہوگا۔