ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 428

428 معَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِايْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْلَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحريم : 9) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو سچی تو بہ کرو اور کامل توبہ کرو۔ممکن ہے کہ خدا اس کے نتیجہ میں تمہاری بدیاں تم سے دور فرمادے۔وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهرُ اور تمہیں ایسے باغات میں داخل فرمائے جن میں دائمی نہریں بہتی ہیں۔يَوْمَ لا يُخْذِى اللَّهُ النَّبِيِّ یاد رکھو ایک ایسا دن آنے والا ہے جبکہ خدا کا نبی ذلیل نہیں کیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر عزت بخشی جائے گی کیونکہ دنیا اس نبی کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ذلیل نہیں کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر کوشش کو ناکام اور نا مراد بنا دیا جائے گا اور ہر عزت اس مقدس نبی کے حصے میں آئے گی فرمایا۔لا يُغْزِي اللَّهُ النَّبِيِّ وَالَّذِينَ امنوا معه اور یہی سلوک ان لوگوں سے بھی کیا جائے گا جو اس کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں۔نُورُهُمْ يَسَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ان کا نور ان کے سامنے ان کے آگے آگے دوڑے گا۔وہایمانهمْ اور ان کے داہنے ہاتھ بھی۔يَقُولُونَ رَبَّنَا اتْمِعْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا وہ یہ عرض کریں گئے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے کامل فرما دے اور ہمیں بخش دے۔اِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔یہاں نور کے سامنے بھاگنے کا اور دائیں طرف بھاگنے کا ذکر ہے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے بائیں طرف نور نہیں ہو گا اور ان کے پیچھے نور نہیں ہو گا یہ اس محاورے کا مطلب نہیں۔سامنے بھاگنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رہتے روشن ہوں گے۔انہیں معلوم ہو گا کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور دائیں طرف کے نور کا مطلب یہ ہے کہ ان کا دین روشن ہو گا اور دین کے معاملات میں غلطیوں سے میرا ہوں گے کیونکہ سامنے تو انسان رستہ دیکھنے کے لئے نور کا محتاج ہوا کرتا ہے۔آپ ٹارچ لے کر جب اندھیرے میں چلتے ہیں تو ٹارچ کا منہ پیچھے کی طرف کر کے تو آگے نہیں بڑھتے۔پس اس میں ایسی کیفیت بیان ہو گئی جس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ