ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 429
429 ترقی کرنے والے لوگ ہوں گے اور یہ جو محاورہ ہے نُورُهُمْ يسعى بين ايديهم اس نے ایک بہت ہی خوبصورت منظر کھینچا ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم اور آپ کے غلاموں کی تیز رفتاری کا۔جتنا تیز یہ آگے قدم بڑھائیں گے اتنا ہی اور تیزی سے آگے آگے بڑھے گا۔جس طرح بعض دفعہ ایک پائلٹ اس لئے زیادہ تیز آگے بڑھتا ہے کہ پیچھے آنے والا تیز رفتار ہے۔ویسا ہی نقشہ نور کا کھینچا گیا ہے کہ وہ ایسی تیزی کے ساتھ خدا کی جانب قدم بڑھانے والے ہیں کہ نور کو جلدی ہو گی کہ میں کہیں پیچھے نہ رہ جاؤں اور وہ ان کے رستے روشن کرتا چلا جائے گا۔اور پایمانیہ کا مطلب ہے کہ ان کا دایاں پہلو یعنی دین پوری طرح روشن ہو گا یعنی دنیا میں اگر وہ غلطیاں بھی کر جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔بعض باتوں میں دنیا کے لحاظ سے وہ لا علم بھی ہو سکتے ہیں لیکن اس سے ان کی روحانی شخصیت پر کوئی بداثر نہیں پڑے گا اور پھر وہ یہ دعا کریں گے۔دینا انید تقا نورتا اسے خدا ہمارا نور کامل فرما دے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ نور کسی ایسی حالت کا نام نہیں ہے جہاں روشنی مکمل ہو جائے۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا۔روشنی درجہ بدرجہ بڑھتی رہتی ہے اور درجہ بدرجہ کم بھی ہوتی رہتی ہے۔یہ روشن جس میں ہم اب بیٹھے ہوئے ہیں، نام سمجھ رہے ہیں کہ بہت ہی اچھی روشنی ہے۔دور تک ہر چیز ہمیں صاف دکھائی دے رہی ہے لیکن باہر کی دھوپ میں نکل کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ روشنی کچھ اور ہی روشنی ہے اور اسی زمانے میں اسی دن آپ کسی سخت گرم ملک کی دھوپ میں جا کر نکل کر دیکھیں تو اتنی تیز روشنی ہوگی کہ آنکھیں نہیں کھلیں گی۔تو روشنی اپنی کیفیت کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے۔انهم لنا نور کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا نور بڑھاتا چلا جا۔دوسرے نورتا کہہ کر ایک اور اشارہ فرما دیا گیا۔ہر شخص کے اندر اللہ تعالٰی نے اندرونی صلاحیتیں رکھی ہوئی ہیں اور دراصل وہی ہیں جن سے وہ نور پاتا ہے۔آنکھوں کا تعلق نور سے ہے۔جس کی آنکھیں زیادہ روشن ہوں اتنا ہی زیادہ وہ بیرونی نور سے استفادہ کر سکتی ہیں۔اگر آنکھوں میں روشنائی نہ ہو تو خواہ ہزار سورج چمک رہے ہوں ایسے شخص کو