ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 396
396 مومنوں کے لئے ملائکہ کی دعا اب ایک دلچسپ دعا ایسی ہے جو بندے نہیں کر رہے بلکہ فرشتے کرتے ہیں۔فرمایا الذين يحملون العزل ومن حوله يُسَحُونَ بِحَمْدِ رَتِهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ ويستغفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا (المومن : ۸) کہ ہمارے بعض ایسے ملائک ہیں جو ہم نے پیدا کئے جو عرش کو سنبھالے ہوئے ہیں۔وَمَن حوله اور جو کچھ بھی اس کے ارد گرد ہے۔يُستحُونَ يحميرتهم وہ خدا کی تسبیح اس کی حمد کے ساتھ کرتے ہیں۔ویؤمنون ہو اور وہ اس پر پوری طرح ایمان لاتے ہیں۔ويستنفرون للذين امنوا اور جو لوگ بھی ایمان لاتے ہیں ان کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔اس آیت کا اکثر مفسرین یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ گویا نعوذ باللہ من ذالك آسمان پر کہیں عرش کوئی ایسا تخت ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے اور اس کو کچھ فرشتے کندھوں پر اٹھائے ہوتے ہیں اور یہ ان فرشتوں کی دعا ہے۔یہ ایک بالکل جاہلانہ تصور ہے۔اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تو ساری کائنات کو اٹھائے ہوئے ہے۔اس کو اٹھانے والا کون ہے۔اس لئے عرش سے مراد ہرگز کسی قسم کا کوئی جسمانی عرش نہیں۔عرش کے مختلف معانی ہیں۔قرآن کریم میں عرش کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے اور عرش سے نظام کائنات ہی مراد ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے جب ہم نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اس کے بعد فرمایا۔ثم استوى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف : (۵۵) پھر اللہ تعالٰی نے عرش پر استوئی کیا۔تو عرش سے مراد وہ ساری کائنات تھی اور اس کا نظام تھا جس کو خدا نے پیدا کیا اور پھر اس کو سنبھال لیا۔اس کا انتظام چلایا۔پس وہ طاقتیں جو نظام کائنات کو چلانے والی طاقتیں ہیں اور نظام کائنات کی جب ہم بات کرتے ہیں تو صرف ظاہری نظام کائنات نہیں بلکہ روحانی نظام کائنات بھی ہے اور یہاں غالبا اسی کا ذکر ہے کہ وہ خدا کے پیدا کردہ فرشتے یا وہ طاقتیں جو روحانی نظام عالم کو چلانے کی ذمہ دار ہیں وہ خدا