ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 395
395 ہے۔پیار آنا ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے اور قبولیت دعا کا پیار سے تعلق ہے۔جس طرح ایک شاعر نے کہا ہے کہ : پیار ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصہ نہ پیار آتا ہے اب دونوں کا آپس کا تعلق اس قسم کا ہے کہ ایک شخص کو نفرت ہے ایک کو محبت ہے۔جس کو نفرت ہے کہنے والا کہتا ہے ہم اس سے پیار کرتے ہیں تو اسے ہم پر غصہ آجاتا ہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ جب اسے غصہ آتا ہے تو ہمیں آ جاتا ہے تو یہاں دعاؤں کے معاملہ میں محض لفظوں کی بات نہیں ہے کہ کسی نبی کے الفاظ آپ دہرانے لگ جائیں۔قرآن کریم نے ان کیفیات کا ذکر فرمایا ہے۔ان حالات کا ذکر فرمایا ہے۔ان نبیوں کے اخلاق کا ذکر فرمایا ہے۔ان نبیوں کے اپنے ساتھ تعلقات کا ذکر فرمایا ہے۔وہ ایک پس منظر بنا کر پھر وہ دعا سکھائی گئی ہے۔اس پس منظر کے پیدا کرنے کے لئے اگر انسان کوشش کرے اگر چہ ویسا نہ بھی بن سکے لیکن کچھ تو ہو پھر دعا کر کے دیکھے کبھی خطا نہیں جائے گی۔میرا تو ایمان ہے کہ وہ دعا جو انبیاء نے کی اور خطا نہ گئی اگر اسی درد اور اسی جذبے کے ساتھ کی جائے تو کبھی خطا نہیں جائے گی۔ہم نے تو دیکھا ہے کہ وہ اچھے ڈاکٹر جو نسخے بیان کرتے ہیں اور ساتھ اس کے متعلق تفصیل سے بتاتے ہیں کہ یہ یہ باتیں ہوں تو نسخہ کارگر ہو گا۔ان کا نسخہ واقعی کارگر ہوتا ہے۔میں ہومیو پیتھک کا شوق رکھتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے بعض ڈاکٹر جو نسخہ بتاتے ہیں شمار ہی کبھی کامیاب ہو لیکن بعض جو تفصیل سے بتاتے ہیں کہ یہ یہ باتیں ہوں تو کامیاب ہو گا وہ ضرور کامیاب ہوتا ہے۔پس اللہ تعالٰی سے بہتر کون ڈاکٹر ہو سکتا ہے جو انسان کی ہر اصلاح کے لئے ہمیں قرآن کریم جیسا نسخہ عطا کرتا ہے۔آپ غور سے دیکھیں تو قرآن کریم کی ہر دعا سے پہلے اس کا پس منظر بیان ہوا ہے۔وہ ساری ادائیں تفصیل سے زیر بحث لائی گئی ہیں جن پر نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالٰی نے ان دعاؤں کو قبول فرمایا۔