ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 356

356 تو سب کو رزق دینے والا ہے تو کب بھوکا تھا تو اللہ فرمائے گا دیکھ جب میرا بندہ نگا تھا اور نہ سردی سے بچ سکتا تھا نہ گرمی سے اس وقت میں ہی ننگا تھا تو اس وقت میری مدد کر سکتا تھا یعنی میرے بندے کی مدد کر سکتا تھا۔جب میرا کوئی غریب بندہ بھو کا تھا اور تو کھانا کھلا سکتا تھا مگر نہیں کھلایا تو گویا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں آپ دیکھ لیں اس کے ساتھ یہ بالکل مطابقت کھا رہا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس تمثیل کے ذریعے ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ تم اگر خدا کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تو براہ راست تو ادا کر ہی نہیں سکتے۔جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے اس کے غریب بندوں پر احسان کرتے ہوئے اس میں سے کچھ ان کو دو تو اس رنگ میں تو گویا خدا کا شکریہ ادا کر سکتے ہو۔جتنی زیادہ کسی کو نعمتیں عطا ہوں ادا اتنی ہی زیادہ شکریہ ادا کرنے کی ذمہ داری اس پر پڑ جاتی ہے۔اتنی ہی زیادہ اس کو دعا کرنی پڑے گی اور انبیاء کی دعاؤں نے ہمیں سکھا دیا کہ انبیاء جیسے بڑے مقام پر فائز لوگ بھی اپنی طاقت سے شکریہ ادا نہیں کر سکتے تھے۔اگر انبیاء کو خود یہ طاقت ہوتی کہ اللہ کا شکریہ ادا کر سکیں تو خدا سے رو رو کر دعائیں مانگنے کی اور گریہ و زاری کی کیا ضرورت تھی کہ اے اللہ ! ہمیں شکریہ کا طریقہ سکھا۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء عارف تھے۔خدا کی حکمت کے راز سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ اگر خدا نے توفیق نہ دی تو ہم شکر کا حق بھی ادا نہیں کر سکیں گے پس حضرت سلیمان کے منہ سے یہ دعا بہت زیب دیتی ہے کیونکہ آپ پر خدا کے بے انتہاء احسانات تھے۔پس نہایت عاجزی کے ساتھ جھکتے ہوئے خدا کا خوف کھاتے ہوئے انہوں نے عرض کیا : رب اور شرقی آن اشكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي انْعَمْتَ عَلَيْ اے میرے رب مجھے توفیق عطا فرما۔أن أشكر نعمتك کہ میں تیری نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں۔الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَي اس نعمت کا جو تو نے مجھے پر کی اور صرف اسی کا نہیں۔وعلى والدي اور اس نعمت کا بھی مجھ پر شکریہ واجب ہے جو تو نے میرے والدین پر کی۔اب یاد رکھیں اس دعا نے ہمیں ایک اور بہت گہرا حکمت کا موتی پکڑا دیا۔بچوں پر فرض ہے کہ اپنے والدین کا شکریہ بھی ادا کریں۔اور والدین پر جو خدا نے نعمتیں عطا کیں، والدین کی