ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 357
357 زندگی تھوڑی ہوئی اور وہ ان سب نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کر سکے تو یہ اولاد پر فرض ہو گیا اور وہ والدین بھی جو خدا کے نیک بندے تھے اور انہوں نے خدا کا شکر کرتے ہوئے زندگی گزاری انکی اولاد کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم پر ہمارے ماں باپ کا احسان ہے۔ہم اس احسان کا صرف اس رنگ میں بدلہ اتار سکتے ہیں کہ جو نیک کام وہ کیا کرتے تھے ان نیک کاموں کو ہم بھی کریں۔جو خدا نے ان پر احسان کئے تھے ان احسانات کا شکریہ ہم انکی طرف سے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کریں، تو کتنا عظیم الشان نبی تھا حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام۔کتنی گہری معرفت اور حکمت کی باتیں کرنے والے تھے۔آپ کی دعائیں بھی گہری حکمت پر مبنی تھیں۔پس شکریہ اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے والدین کا بھی ادا کرنے کا خیال آیا۔اور کہا وعلى والد اور اپنے والدین کا بھی شکریہ ادا کروں اور کس طرح شکریہ ادا کروں؟ زبان سے! نہیں نہیں۔عرض کرتے ہیں وان اعملَ صَالِحًا ترضہ ایک ہی طریق ہے تیرا شکریہ ادا کرنے کا کہ نیک اعمال بجالاؤں ایسے اعمال بجالاؤں جو تجھے پسند آجائیں۔اللہ تعالیٰ نیک اعمال سے خوش ہوتا ہے پس شکریہ ادا کرنے کا ایک اور طریق ہمیں سمجھا دیا کہ شکریہ ادا اس لئے کیا جاتا ہے کہ دوسرا خوش ہو اور اللہ تعالیٰ تو زبانی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ تو نیک اعمال سے خوش ہوتا ہے۔پس خدا سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا مجھے ایسے نیک اعمال ادا کرنے کی توفیق بخش کہ جن پر تیری نگاہیں پڑیں تو تو خوش ہو جائے کہ دیکھو میرا بندہ سلیمان کیسے اچھے کام کر رہا ہے۔کیسے نیک کاموں میں مصروف ہے۔اور مجھے خوش کرنا چاہتا ہے حضرت سلیمان عرض کرتے ہیں کہ اس رنگ میں تو مجھے دیکھے کہ تیری رضا کی نظر مجھ پر پڑ رہی ہو۔آپ کا کوئی بچہ خوش کرنے کی کوشش کرتا ہو اور آپ کی مرضی کا کام کرے اور پھر بار بار دیکھے کہ آپ خوش ہوئے ہیں کہ نہیں اور آپ کے چہرے پر مسرت کے آثار دیکھے خوشی کے آثار دیکھے ، مسکراہٹ دیکھے ، آنکھوں میں پیار دیکھے تو اس کو کیسا مزا آئے گا۔پس حضرت سلیمان یہی عرض کر رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ اے خدا توفیق بخش کہ میں نیک کام کروں اور ایسے کام جنکو تو پسند کرتا ہو اور تیرے