ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 324 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 324

324 بزرگ انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کو وقت کے گزرنے کے ساتھ بہت بڑے مقامات اور مرتبے عطا کئے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بلند مرتبہ نہیں مانگ رہے۔آنے والی نسلوں سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ آپ کی حمد و ثناء میں مصروف رہیں اور آپ کی تعریف میں بڑے بڑے قصیدے کہیں۔کیسی عمدہ دعا ہے : واجعل لي لسان صدقي اے میرے رب میرے متعلق تو آئندہ جو بات بھی ہو کچی ہو۔اس میں جھوٹ کی اونی سی ملونی بھی نہ ہو۔اب آپ دیکھیں کہ کس شان کے ساتھ حضرت ابراہیم کے حق میں خدا تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا ہے۔کتنا بلند مرتبہ آپ کو عطا کیا گیا۔ابو الانبیاء کہلائے اور آج کی دنیا کے مذاہب کے سلسلوں میں تین سب سے قوی سلسلے آپ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔یہود بھی آپ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔عیسائی بھی آپ کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور مسلمان بھی آپ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔یہ وہ تین قومیں ہیں جو در حقیقت اپنی طاقت کے لحاظ سے تمام دنیا پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اس کے باوجود حضرت ابراہیم کی ذات کے بارے میں کبھی کوئی مبالغہ نہیں کیا گیا۔ہزاروں سال گزر گئے ہیں۔کسی نے آپ کے متعلق فرضی قصے نہیں بنائے۔کوئی ایک بھی فرضی خیالی قصہ آپ کی طرف منسوب نہیں ہوا۔اس سے آپ اندازہ کریں کہ سچی دعاؤں میں جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہیں کتنی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔دل سے بیچ کی یہ پکار تھی کہ اے خدا ہمیشہ میری تعریف سچی رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا کو سچا کر دکھایا۔ای دعا کے مطالعہ سے مجھے درود شریف میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کی حکمت سمجھ آئی۔اور بھی بہت سے انبیاء گزرے ہیں ان کا بھی ذکر خیر د رود میں چل سکتا تھا لیکن حضرت ابراہیم کو کیوں یہ اعزا نہ دیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ سلم اپنی امت کو یہ درود سکھائیں کہ آله و اللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وعلى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِمَدٌ - اللهُم بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ على إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔