ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 325
325 اس درود سے یہ بھی سمجھ آگئی کہ لسان صدق کا درود کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔اس دعا کو اس درود کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کما کی دعا سکھا کر حضرت ابرہیم کی دعاؤں کے ساتھ اپنی امت کو باندھ دیا اور گویا اپنے متعلق بھی یہ دعا کر دی کہ اے خدا جس طرح ابراہیم پر تو نے سلامتی بھیجی اور اس زمانے میں بھی آپ کو سلامتی عطا ہوئی آئندہ آنے والی نسلوں میں، آئندہ آنے والے زمانوں میں بھی ہمیشہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو مس شیطان سے پاک رکھا اور لغو اور جھوٹے قصوں سے آپ کو بچایا ، اے خدا اسی طرح میری بھی حفاظت فرما اور میری امت کی بھی حفاظت فرما۔بہر حال ایک مضمون نہیں یہ تو بہت ہی وسیع مضامین ہیں۔کما کے تعلق میں یہ باتیں پھر انشاء اللہ کبھی توفیق ملی تو میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔بہت سے احمدی یہ سوال کرتے رہتے ہیں کہ كما جو کہہ دیا گیا تو اس میں کیا برابری مقصود ہے لیکن برابری مقصود نہیں، کچھ اور مضامین بھی ہیں۔ایک تعلق بہر حال درود شریف کا اس آیت میں مذکو ردعا سے ہے۔وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقِي فِي الْآخِرِينَ کہ اے خدا!! آخرین میں میرا ذکر خیر، سچائی کا ذکر جاری رہے اور چونکہ آخرین کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہونا تھا، کیونکہ قیامت تک کے لئے آخرین کا دور آپ کا دور تھا اس لئے اگر آپ کی امت میں آپ کا ذکر خیر سچائی کے ساتھ جاری نہ رہتا تو یہ دعا قبول نہ ہوتی۔پس اس کے نتیجے میں اس دعا کی قبولیت کا سب سے بڑا ثبوت وہ درود ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں سکھایا۔وَاجْعَلَنِي مِن وَرَثَةٍ جَنَّةِ النَّعِيمِ اور اے اللہ ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔جنت تو خود ہی نعمت ہے۔پھر یہ کیا مطلب کہ مِن وَرَشَة جَنَّةِ النَّعِم ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ جنت کے بھی مختلف درجے ہیں۔ایک جنت نعیم ہے۔جَنَّةِ النعنبو کے معنی میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ وہ جنت ہے جس میں انبیاء شامل ہوتے ہیں کیونکہ ویسے تو سب نعمتوں والے خواہ وہ صالح ہو، خواہ شہید ہوں، خواہ صدیق ہوں یا نبی ہوں جنت میں جائیں گے اور ان معنوں میں ہر جنت جنة النعيم