ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 319
319 عذاب کی طرف اشارہ فرما دیا اور بتایا کہ جس عذاب سے تم بھاگتے ہو وہ تو عارضی ہے اور جس عذاب کی طرف تم اس کے نتیجے میں جاسکتے ہو وہ ایک مستقل عذاب ہے لیکن عارضی حیثیت سے بھی دنیا کے عذاب کے مقابل پر آخرت کا عذاب بہت زیادہ سخت ہو گا یعنی اگر محض عارضی بھی ہو تب بھی دنیا کے عارضی عذاب کے مقابل پر وہ بہت زیادہ کڑا ہو گا تو خدا کے عارف بندے اس بات کو جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں اس لئے دنیا کے عارضی عذاب کو وہ آخرت کے عذاب پر ترجیح دے دیتے ہیں یعنی کہ اس عذاب کو قبول نہیں کرتے اور دنیا کے عذاب کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔پس إنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَر او مُقَاماً اس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا! ہمیں تو تیرے عذاب سے اتنا ڈر لگتا ہے کہ ہم تجھ سے یہی پناہ مانگتے ہیں۔وہ عذاب جو تیری طرف سے آئے اگر تھوڑا بھی ہو تو وہ بہت زیادہ تباہ کن ہوتا ہے اور نا قابل برداشت ہوتا ہے۔اپنی اولاد اور اہل و عیال کے لئے دعا پھر یہی عباد الرحمان اپنی اولاد کے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے یہ دعائیں کرتے ہیں۔والَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنَ ازْوَاجِنَا وَذُرِّيتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا (سورة الفرقان : ۷۵) کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی جناب سے اپنے ازواج کی طرف سے درسنا اور اپنی اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ لا مانا اور ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض دفعہ لوگ ازواج سے مراد صرف بیویاں لیتے ہیں اور تفسیر صغیر میں بھی یہی ترجمہ ہے کہ ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔یہ ترجمہ کرنے کی وجہ غالبا " یہ بنی کہ شروع میں ہوں معلوم ہوتا ہے جیسے مردوں سے متعلق بات ہو رہی ہے۔عباد الرحمان، خدا کے بندے اور وَالَّذِينَ يَقُولُونَ میں بھی مردوں کا ذکر ہے کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں لیکن در حقیقت خدا تعالیٰ نے جہاں مردوں کے صیغے میں بات کی ہے وہاں مومن