ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 318
318 آخرت کے عذاب کے بدلے دنیا کا عذاب قبول کرلیں سورة الفرقان آیت ۶۷۶۶ میں اللہ تعالٰی عباد الرحمان کی دعا بیان فرماتا ہے۔عباد الرحمان کا تذکرہ چل رہا ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ وہ بندے ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی سے چلتے ہیں۔جب جاہل ان کو مخاطب ہوتے ہیں اور ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں تو وہ جوابا " یہ کہتے ہیں واذا خاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سلما اور پھر اپنے رب کے حضور راتیں سجدوں اور قیام میں گزار دیتے ہیں۔ان کے متعلق فرمایا کہ وہ کیا دعائیں کرتے ہیں۔والذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جهما إن عذابها ان غَرَامًا إِنَّهَا مَاءَتْ مُسْتَقَراء مُقَامًا - یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم سے جہنم کا عذاب ٹال دے اس وجہ سے وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک طرف دشمن کا عذاب ہے اور اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔فرعون کے وقت میں جن ساحروں کو اللہ تعالی نے ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی انہوں نے بھی کی ذکر کیا تھا کہ ہم تو خدا سے زیادہ ڈرتے ہیں مجھ سے نہیں ڈرتے۔تو ہم پر جو چاہے عذاب نازل کر ہم نے تو صداقت کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔اس لئے اب ہم اس صداقت سے پھرنے والے نہیں ہیں۔پس دنیا کے عذاب اور دنیا کی طعن و تشنیع اور دنیا کے تمسخر کے نتیجے میں ایک طرف انسانوں کا خوف پیدا ہوتا ہے اس خوف سے صرف خدا کا خوف انسان کو بچا سکتا ہے اگر وہ دل پر غالب ہو۔پس ان دو خوفوں کے در میان عباد الرحمان کیا فیصلہ کرتے ہیں، ان کا ذکر چل رہا ہے۔فرمایا ان کا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ راتوں کو اٹھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں۔خدا کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِف منا عَذَابَ جَهَنَّمَ اے اللہ ہمیں عذاب جہنم کا زیادہ خوف ہے اس لئے اس عذاب کو ہم سے ٹال دے۔اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ عَرَاما کیونکہ جہنم کا عذاب جو ہے وہ تو بہت بڑی تباہی ہے کہ دنیا کے عذاب تو اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں إِنَّهَا مَارَتْ مُسْتَقَرا و مُقَامًا: کہ وہ تو عارضی طور پر بھی بہت برا ہے اور مستقل ٹھکانے کے طور پر تو بد تر ہے۔عارضی طور پر کہہ کر دراصل دنیا کے رکھتے۔