ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 320

320 عورتیں شامل ہیں اور ان کو اس خطاب سے نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں کیونکہ نہ صرف عربی طرز کلام ہے بلکہ دنیا کی دوسری قوموں میں بھی جب ہم بنی نوع انسان کا ذکر کرتے ہیں تو بسا اوقات مردوں کے صیغے میں بات ہو رہی ہوتی ہے اور مراد عورتیں بھی ہوتی ہیں۔بڑے اور چھوٹے سب اس میں شامل ہوتے ہیں تو طرز کلام یہ ہے جو آسمان ہے کہ ایک ہی صیغے کا ذکر ہو جائے اور اس میں اس جنس کی ہر قسم کے ہر نوع کے افراد اس جنس میں شامل ہو جائیں پس والَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنَ ازواجنا میں مردوں ہی کو صرف دعا نہیں سکھائی گئی، عورتوں کو بھی دعا سکھائی گئی ہے اور ان کو اسی طرح دعا کرنی چاہیے کہ هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيتِنَا کیونکہ زوج کا مطلب بیوی نہیں ہے۔زوج کا لفظ میاں اور بیوی دونوں پر برابر اطلاقی پاتا ہے۔اس لئے عورتوں کو اس دعا کو تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔وہ اس مضمون میں شامل ہیں اور دعا کے اندر ویسے بھی زوج کے تحت ان کے خاوند شامل ہو جاتے ہیں۔ہمیں اب اس دعا کا معنی یہ ہو گا کہ اے خدا! ہمیں ہمارے زندگیوں کے ساتھیوں سے خواہ وہ مرد ہوں خواہ وہ عورتیں ہوں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إماما اور ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔ایسی نسل پیچھے چھوڑنے کی توفیق عطا فرما جو تیری نظر میں متقی ہوں۔یہ وہ دعا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے گھروں کے ماحول سدھر سکتے ہیں۔جو خطوط مجھے ملتے ہیں، بلا استثناء ان میں روزانہ کچھ خطوط ضرور ایسے ہوتے ہیں جن میں گھر یلو زندگی کی نا چاقیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عذاب کا ذکر ہوتا ہے اور ایسے خطوط بعض دفعہ بچوں کی طرف سے بھی ملتے ہیں۔بچے لکھتے ہیں ہمارے ماں باپ کی آپس میں ناچاقیاں ہیں۔آپس میں ایک دوسرے کے خلاف گندی زبان استعمال کرتے ہیں گھر جہنم بنا ہوا ہے اور ہم جو بہن بھائی ہیں یوں لگتا ہے کہ بے سہارا ہیں اور ہمارے سر پر کوئی چھت نہیں ہے۔اس صورت حال سے ہم بہت ہی تنگ ہیں اور مشکل یہ ہے کہ ہم کسی کی طرف داری کر نہیں سکتے۔اگر کسی کو سچا سمجھیں بھی تب بھی ہم کسی ایک کی