ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 268

268 تربیت میں سب سے اہم دعا ہے پس رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَ تَني صَغِيرًا میں ایک یہ پہلو بھی ہمارے سامنے آگیا کہ وہ رستہ جس پر خدا کے انعام یافتہ لوگ چلا کرتے تھے وہ اپنی اولاد کے لئے صرف رحمت کا سلوک نہیں کیا کرتے تھے۔ان کے لئے دعائیں کیا کرتے تھے۔اور ان کی دعائیں ان کے رحم کے نتیجہ میں ہوتی تھیں۔کیونکہ رحم کے نتیجے میں وہ خود بعض سختیاں اختیار نہیں کر سکتے تھے۔بعض جگہ وہ تجاوز نہیں کر سکتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالی کا حکم نہیں ہے کہ میں یہاں زبردستی اس کو ٹھیک کردوں۔اس کے نتیجہ میں انکے دل میں درد پیدا ہوتا تھا اور دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوتی تھی۔پس وہ لوگ جو منعم علیم ہیں جن کو خدا نے اس دستہ پر کامیابی سے چلنے کی توفیق بخشی جو انعام یافتہ لوگوں کا رستہ تھا۔انہوں نے اپنی اولادوں کے لئے دعائیں بھی بہت کیں۔پس اس کے نتیجہ میں خدا نے بھی جوابا "حسن سلوک سکھایا تو اس مضمون کو دعا پر ختم کیا۔فرمایا وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اس میں دعائیں بھی شامل تھیں۔کما کے لفظ نے بتا دیا کہ دعائیں ضرور شامل تھیں اگر دعائیں شامل نہ ہوتیں تو خدا دعا سکھاتا کیوں؟ پس اس مضمون کو دعا پر ختم کرنا اس آیت کو بہت ہی زیادہ دلکشی عطا کرتا ہے۔بہت ہی حسین بنا دیتا ہے۔کیسا کامل کلام ہے تربیت کے سارے امور بھی اس میں بیان ہو گئے دونوں نسلوں کے تعلقات اس میں بیان ہو گئے وہ خطرات بیان ہو گئے جو ہمیں در پیش آسکتے ہیں جن سے ہمیں متنبہ کیا گیا اور پھر یہ بتایا گیا کہ تربیت کا بہترین طریق دعا ہی ہے پس جس طرح تمہارے والدین بچپن میں دعاؤں کے ذریعہ تم سے اپنی رحمت کا اظہار کرتے تھے تم بھی آخر پر خدا سے یہ دعا کیا کرنا اور اس دعا کو حسن سلوک کے بعد رکھا ہے۔دیکھیں ! والخوض لهما جناح الذلي من الرحمة ان پر اپنی رحمت کے پر پھیلا دو ان کو اپنے پروں کے نیچے لے لو۔ساری بات بظا ہر مکمل ہو گئی۔پھر فرمایا نہیں مکمل ہوئی جب تک نیز دعا ساتھ نہیں کرو گے۔اس وقت تک تم حقیقت میں احسان کا بدلہ احسان کے ذریعہ نہیں دے سکو گے۔پس اس دعا نے اس مضمون کو مکمل کیا اس دعا کے وقت