ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 267
267 نے تربیت اور پیار میں زیادہ حصہ لیا۔بعض دفعہ باپ کے ساتھ تعلق قائم رکھتی ہیں اور ماں کے خلاف ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ماں نے تو ہماری ذمہ داریاں ادا نہیں کیں باپ قربانی کرتا رہا ہے تو اس طرح گھروں کے ٹوٹنے کے احتمالات بھی بڑھ جاتے ہیں۔تربیت کے لئے رحمت ضروری ہے یہ صورت حال پھر بعض دفعہ ایسے خطرناک نتائج پر فتح ہو جاتی ہے جس کے آثار اس وقت ترقی یافتہ ممالک میں ہر جگہ دکھائی دے رہے ہیں۔کہ اولاد کو اپنے والدین سے خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔یورپ کے بعض علاقوں میں پولیس کی تحقیق کے مطابق میں فیصد گھر ایسے ہیں جہاں بچے اپنے ماں باپ سے محفوظ نہیں ہیں۔یہاں تک کہ جنسی بے راہ روی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔پس جہاں یہ صورت حال ہو وہاں یہ دعا کیسے کام کر سکتی ہے کہ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَار تيرني صَغِيرًا ایک ایسے صالح معاشرے کی دعا ہے جہاں والدین نے اپنی اولاد سے محض عام سلوک نہیں کیا۔ذمہ داریاں ہی ادا نہیں کیں بلکہ بے حد رحمت کا سلوک کیا اور ان کی تربیت شفقت سے کی کسی غصے کے ساتھ نہیں کی۔اور تربیت کے لئے رحمت ضروری ہے۔یا درکھیں جہاں جلد بازی میں انسان غصے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اولا و کو مارنے لگ جاتا ہے اس کو گالیاں دینے لگ جاتا ہے وہاں تربیت کا مضمون غائب ہو چکا ہوتا ہے۔وہاں نفسانی جوش کا معاملہ شروع ہو جاتا ہے۔اور نفسانی جوش سے تربیت نہیں ہوا کرتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لئے ایک صحابی پر بہت ہی خفگی کا اظہار فرمایا جن کے متعلق اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنی اولاد سے سختی کرتے ہیں اور بار کے ان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔اتنی سختی کا اظہار فرمایا کہ بہت کم میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے صحابہ پر اس طرح ناراض ہوتے دیکھا ہے اور باربار اس طرف توجہ دلائی کہ تم دعا کیوں نہیں کرتے۔اس سے پتہ چلا کہ خدا کے پاک بندے جو سچا ایمان رکھتے ہیں وہ تمام کوششوں میں سب سے زیادہ اہمیت دعا کو دیتے ہیں۔