ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 156

156 الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم نعمتیں مانگی جارہی ہیں اور اس میں کون سے مشکل بات ہے لیکن جو مشکل بات ہے وہ یہ ہے کہ نعمتیں نہیں مانگی جارہیں بلکہ نعمتیں حاصل کرنے والوں کا راستہ مانگا جا رہا ہے۔اس لئے یہ غلط فہمی دل سے نکال دیں کہ گویا یہ دعا ہے کہ اے اللہ ! ہماری جھولی میں ساری نعمتیں ڈال دے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی دعا کرے کہ اے خدا! میں تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھا رہوں گا تو میری جھولی میں ہر قسم کے پھل ڈال دے۔یہ تو بہت آسان دعا ہے مگر جو دعا سکھائی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا ! میں پھل چاہتا ہوں لیکن اس طرح جس طرح تیرے محنت کرنے والے بندوں نے پھل حاصل کئے۔اس طرح پھیل چاہتا ہوں جس طرح باغبان نے لمبے عرصے تک محنتیں کیں۔گٹھلیاں زمین میں گاڑیں ان کے ارد گرد زمین کی تلائی کی اسے نرم کیا اور ہر قسم کی ضرورت پوری کی۔جب راتوں کو اٹھنا پڑا تو راتوں کو اٹھا۔جب چلچلاتی دھوپ میں پودوں کی حفاظت کے لئے جانا پڑا تو چلچلاتی دھوپ میں ان کی حفاظت کے لئے گیا۔جب پانی کی ضرورت پڑی تو پانی سے ان کو سیراب کیا۔غرضیکہ لمبا عرصہ محنت کرتا چلا گیا۔ہر قسم کے جانوروں سے حفاظت کی۔ہر قسم کے چوروں اچکوں سے ان کی حفاظت کی۔اپنے بچوں کی طرح انہیں پالا پوسا یہاں تک کہ وہ درخت تیری رحمت کے سائے تلے بڑے ہوئے اور پھر اس تمام عرصہ میں وہ تجھ سے دعائیں کرتا رہا کہ اے خدا! اس درخت کو آسمانی آفات سے بھی بچا۔محنت تو میں نے کی لیکن پھل لانا تیرا کام ہے، تو اب ان درختوں کو شمر دار فرما دے۔پھر اس کی دعائیں مقبول ہوئیں اور پھر کثرت سے ان درختوں کو پھل گئے۔اے خدا! مجھے ان زمینداروں کا رستہ دکھا اور ان زمینداروں کے رستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔انعام پانے والوں کا رستہ پانے کی دعا کا مطلب اب اس دعا کو آپ سارے زمیندارے کے مضمون پر پھیلا کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ بہت ہی مشقتوں کی دعا مانگ رہے ہیں۔آپ یہ سوچ کر حیران ہو۔گے کہ آپ نرم سے منہ سے کیا مانگ بیٹھے ہیں۔اس صورت حال پر تو فارسی کا وہی شعر صادق آتا ہے کہ۔