ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 155

155 مختصرا" ذکر کر چکا ہوں لیکن اب زیادہ تفصیل سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب ہم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتے ہیں تو ہم کیا دعا مانگتے ہیں اور ہمیں کیا دعا مانگنی چاہئیے۔یہ ہے تو ایک دعا لیکن ایک ایسے برتن کی طرح ہے جسے ہم نے اپنے جذبات اور اپنی امنگوں سے بھرتا ہے اور اپنے خیالات اس میں ڈال کر ان خیالات کو دعاؤں میں تبدیل کرنا ہے۔اس ضمن میں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ و إيَّاكَ نَسْتَعِین تو اس دعا کے دو رخ ہیں۔ایک پہلے کی طرف اور ایک بعد کی طرف پہلے رخ کے لحاظ سے ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے وہ خدا جس کا حسن سورۂ فاتحہ نے ہم پر ظاہر فرمایا ہے۔جس نے ہم کو چکا چوند کر دیا ہے ، ہماری نظروں کو چکا چوند کر دیا ہے اور ہمارے دل میں عشق کا شعلہ بھڑکا دیا ہے، ہم تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں اور صرف تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں لیکن تیری مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔پس إيَّاكَ نَسْتَمِنین ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں کہ عبادت کا حق ادا کریں اور عبادت کے سب فیض پانے کے لئے بھی تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔یہ رخ تو پہلے کی طرف ہے۔یہ سورۂ فاتحہ کا اعجاز ہے کہ اس نے اس دعا کو ایسے مرکز میں رکھا کہ دونوں طرف برابر چسپاں ہوتی ہے۔آئندہ کے لئے اس دعا کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اے خدا! اہم تیری عبادت کرتے ہیں اور اس معاملے میں تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں کہ اهْدِنَا الضراط الْمُسْتَقِية۔ہمیں سیدھے راستے پر چلا کیونکہ اس راستے پر چلنا تیری مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔نعمتیں پانے والوں کا راستہ پانے کی دعا اس پہلو سے جب ہم اس مضمون کا مزید مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت ہم پر اور زیادہ واضح ہو جائے گی کہ اس دعا کی مدد کے بغیر صراط مستقیم پر چلنا ہر گز انسان کے بس کی بات نہیں۔پس ہم کیا دعا کرتے ہیں۔اس پہلو سے میں آپ کو کچھ مزید باتیں قرآن کریم کے مطالعہ کی روشنی میں سمجھانا چاہتا ہوں۔یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ اھدنا