ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 157

157 الَا يَا أَيُّهَا السَّائِي اَور كَأْسًا وَنَاوِلُهَا که عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکل کا کہ اے ساقی ! پیالے کو چکر میں لا۔پیالے کا دور چلا اور مے گساروں کے ہاتھوں تک پہنچا دے۔کیوں اس کی ضرورت پیش آئی؟ اس لئے کہ ہم شروع شروع میں یہ سمجھتے تھے کہ عشق آسان ہے۔ہم عشق کو عیش سمجھتے تھے۔ہم سمجھتے تھے کہ عشق لڑا ئیں گے اور مزے اڑائیں گے۔ولے افتاد مشکل ہا اب عشق آن پڑا ہے تو مصیبت آپڑی ہے۔اب سمجھ آئی ہے کہ عشق ہوتا کیا ہے اور اس کے لوازمات کیا ہیں۔پس یہ دعا مانگنا تو آسان ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لیکن جب ان رستوں پر چلنے کی کوشش کریں گے اور اس دعا کے مفہوم کو پوری طرح سمجھیں گے تب سمجھ آئے گی کہ خدا سے کیا مانگ بیٹھے ہیں لیکن دنیا کے معشوقوں کی طرح کا یہ معشوق نہیں۔یہ حقیقی معشوق مجازی معشوقوں سے بالکل مختلف ہے۔وہ تو اپنے عشاق کی مدد نہیں کرتے لیکن یہ معشوق ہر آن اپنے عشاق کی مدد کے لئے مستعد کھڑا رہتا ہے۔وہ انکے دل کی پکار پر کان دھرتا ہے اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ کب میرا عاشق مجھے درد کے لئے پکارے تو میں دوڑتا ہوا اس کی طرف بڑھوں۔جب وہ سوال کرتا ہے تو اس کو جو اسب دیتا ہے کہ اتي قريب اے میرے بے قرار بے چین بندے اے میرے متلاشی ! میں تو تیرے پاس ہی ہوں۔یہ ایسا معشوق ہے جو ماں سے بہت بڑھ کر اپنے طلب گار بچے سے حسن و احسان کا سلوک کرتا ہے۔پس جہاں یہ راہ مشکل ہے وہاں آسان بھی ہو جاتی ہے اگر دعاؤں کی مدد سے اس کو آسان کیا جائے اور خدا سے وہ تعلق باندھا جائے جو محبت اور پیار اور عشق کا تعلق ہے۔خدا کی نظر میں مغضوب سبھی جانے والی اقوام سے بچنے کی دعا اس وضاحت کے بعد میں چند نمونے آپ کے سامنے قرآن کریم کے بیان کے پیش نظر رکھتا ہوں۔قرآن کریم میں مختلف جگہ منعم عليهم کا ذکر بھی فرمایا گیا اور ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا گیا جو مغضوب ہیں یا ضالین ہیں۔عام طور پر معاملے کو آسانی سے سمجھانے کی خاطر یہ کہا جاتا ہے کہ مغضوب علیحم کے متعلق جب آپ