ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 139
139 راہ پر چلنے کے لائق نہیں ہیں۔یہ سبق ہے جو آپ کو اس جائزے سے ملتا ہے۔آپ کو لازما " اپنے زاویہ نظر کی اصلاح کرنی پڑے گی۔اس حد تک اپنے نفس کی اصلاح کرنی پڑے گی کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم اور آپ کے غلاموں پر جو مصیبتیں ٹوٹیں ان کے ذکر کے ساتھ آپ کا دل خون بھی ہو رہا ہو تو ان پر رشک کر رہا ہو اور دل یقین کرتا ہو کہ یہ تکلیفیں تو خدا کے محبوب بندوں کی تکلیفیں ہیں اور یہ وہ ایسی تکلیفیں ہیں جو ہزار زندگیاں دیکر بھی میسر آجائیں تو خلط سودا نہ ہو گا۔یہ بظا ہر تضاد کی بات ہے لیکن حقیقت میں یہ عرفان ہے جو سچا عرفان ہے۔پس جب آپ اس پہلو سے انعمت عَلَيْهِمْ کا ایک نیا تصور دل میں باندھیں گے تو خدا کی راہ میں مشکل کی زندگی بسر کرنا مشکل دکھائی نہیں دے گا۔مشکل ہو گی بھی تو اللہ کا فضل اس کو آسان کرتا چلا جائے گا کیونکہ وہ چیز مکروہ دکھائی دیتے ہوئے بھی آپ کو اپنے پس منظر میں حسین دکھائی دے گی۔آپ یہ سمجھیں گے کہ کراہت کا ایک ظاہری پردہ ہے جو سامنے ہے، یہ دھوکہ ہے۔اس کے پیچھے جنت ہے اور اس جنت کی خاطر اس تکلیف کے پردے سے آپ اپنے لئے گزرنا گوارا کرلیں گے۔پس حمد کا مضمون جب سورۂ فاتحہ کے باقی مضامین سے باندھ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو نئے نئے مطالب انسان کے سامنے ابھرتے رہتے ہیں اور کھلتے رہتے ہیں اور نئی نئی راہیں عرفان کے سفر کی انسان کے سامنے دراز ہوتی رہتی ہیں جن پر قدم مارنے کی توفیق محض اللہ تعالٰی کے فضل سے عطا ہوتی ہے۔ان کی زبان میں دعائیں کریں جن پر خدا نے انعام کئے اس ضمن میں میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ رمضان مبارک ہے اور خاص طور پر دعاؤں کے دن اور دعاؤں کی راتیں ہیں اس لئے جن لوگوں پر خدا نے انعام فرمائے ان کی زبان میں دعائیں یاد کریں اور قرآن کریم نے وہ دعائیں سب تو نہیں مگر ان میں سے اہم ترین دعائیں ہمارے لئے محفوظ فرما دی ہیں۔پس مختلف انبیاء کی جو دعائیں آپ کو قرآن کریم میں ملتی ہیں ان کے علاوہ احادیث نبویہ میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وہ دعائیں بھی ملتی ہیں جو قرآن میں گزشتہ انبیاء