ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 140
140 تعلق میں نظر نہیں آتیں مگر حضرت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے گزشتہ انبیاء کی دعاؤں کی فہرست میں عظیم الشان اضافے فرمائے ہیں۔بعض دفعہ دوسروں کو نصیحت کی شکل میں اور بعض دفعہ خود دعائیں کرتے ہوئے ایسی دعائیں کیں جو قرآن کریم میں موجود نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے خود کیں اور آپ کے صحابہ نے انہیں ہمارے لئے محفوظ کر لیا اور اس طرح ہمارے لئے ایک خزانہ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اردو زبان میں ایسی دعائیں کی ہیں جو مختلف مشکلوں اور مصیبتوں کے وقت دعا کرنے والے دل کو اتنا گداز کر دیتی ہیں کہ اس گداز دل کی کیفیت کے ساتھ انسان یہ یقین ہی نہیں کر سکتا کہ یہ دعا مقبول نہیں ہوگی۔دعا کی قبولیت کے لئے دل کی زمین کا نرم ہونا ضروری ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے زمیندار بیج بونے سے پہلے زمین میں ہل چلاتا اور اس پر گوڈی کرتا اور اس پر اور محنتیں کرتا کبھی سوہاگے پھیرتا اور پھر ہل چلاتا ، یہاں تک کہ اس کو ایسا نرم اور مزیدار بنا دیتا ہے کہ جانوروں کا دل چاہتا ہے کہ وہ زمین پر لیٹیں اور لوٹیں اور بچوں کا بھی دل چاہتا ہے کہ اس پر خوب دوڑیں اور کھیلیں خواہ ان کے جسم مٹی سے بھر جائیں مگر اس زمین پر دوڑنے کا ایک عجب اور الگ لطف ہوتا ہے۔وہ زمین ہے جو بتا رہی ہوتی ہے کہ یہاں بیچ ڈالو تو بیچ اگے گا۔میری چھاتی تمہارے بیجوں کے لئے نرم ہو چکی ہے اور وہاں وہ پیج ضرور اگتا ہے۔پس دعا کا بیج بھی اپنے اگنے کے لئے دل کی ایسی ہی زمین چاہتا ہے جسے نرم اور گداز کر دیا گیا ہو جو ایسی کیفیت میں ہو کہ اگر کوئی دوسرا اس کو دیکھے تو اس پر پیار آئے اور اس دل پر لوٹنے کو دل چاہئے۔ایسی کیفیت میں جو دعائیں دل سے اٹھتی ہیں وہ ضرور ہی مقبول ہوتی ہیں اور بسا اوقات ایسے دل سے اٹھنے والی دعا اٹھتے وقت انسان کو یہ خبر دے جاتی ہے کہ میں عرش الہی پر پہنچنے سے پہلے نہیں رکوں گی اور لازما " بارگاہ الہی میں مقبول ہوں گی۔وہ ایک عجیب کیفیت ہے جو صاحب تجربہ کو معلوم ہوتی ہے جس کی کیفیت کو دوسرے تک جسے تجربہ نہ ہو بیان کے ذریعہ پہنچایا نہیں جا سکتا لیکن میں جانتا ہوں کہ اکثر احمدی کسی نہ کسی وقت ضرور ان تجارب سے گزرتے ہیں۔پس انبیاء کے