ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 138

138 نعمتیں ہیں۔اس کو آزمائش کہا جاتا ہے اور اگر وہ نعوذ بالله من ذيك غلط راہ پر قدم اٹھاتے تو مغضوب علیم میں داخل ہوتے لیکن بظا ہر وہ راہ آسان دکھائی دیتی اور نعمتوں والی راہ دکھائی دیتی لیکن اس راہ کی سب نعمتیں قرآنی بیان کے مطابق خدا کے غضب کا مظہر ہیں اور ان کی ضلالت اور گمراہی کا مظہر ہیں تو اس مضمون پر غور کرنے سے نعمتوں اور فضلوں کا نیا مفہوم ذہن میں ابھرتا ہے اور انسان خدا کے ان بندوں پر جو آزمائش کے دور سے گزارے جاتے ہیں، رحم نہیں کرتا بلکہ ان پر رشک کرنے لگتا ہے۔یہ عرفان کا وہ مقام ہے جس کے بغیر مومن صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔عرفان کا صحیح مفہوم اب پاکستان میں ہمارے مظلوم احمدی ہیں جن پر کئی قسم کے مظالم توڑے جارہے ہیں ان کے لئے ہمدردی پیدا ہو نا غلط نہیں۔یہ ایک طبیعی اور فطری بات ہے لیکن ان کو اپنے سے ادنیٰ سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ وہ بے چارے تو مارے گئے یہ جہالت ہے اور یہ عرفان کی کمی ہے۔ایک وقت ایسا آئے گا جبکہ ہم سب خدا کے حضور پیش ہوں گے، اس وقت آج جو نسبتاً آسانی میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور خدا کی راہ میں آزمائشوں میں نہیں ڈالے گئے وہ ایک اور زاویے سے ان حالات کا جائزہ لیں گے اور وہ حسرت سے یہ کہیں گے کاش ہم ان کی جگہ ہوتے کیونکہ وہ نہیں مارے گئے ہم مارے گئے جو ان مشکل کی راہوں پر نہیں ڈالے گئے جن مشکل کی راہوں پر خدا کے فضل نے انہیں - ثبات قدم عطا فرمایا۔پس یہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی ایک میر ہے جس کو حمد کے مضمون کے ساتھ جب آپ جوڑ کر اس دنیا کی سیر کرتے ہیں تو عجیب عجیب حسین نظارے دکھائی دیتے ہیں اور ایسے عجیب مناظر دکھائی دیتے ہیں کہ وہ ایک زوایے سے مکروہ دکھائی دیتے ہیں، دوسرے زاویے سے حسین دکھائی دینے لگتے ہیں۔اگر آپ کو وہ مکروہ دکھائی دیتے ہیں یعنی وہ واقعات : انْعَمْتَ عَلَيْهِم کی راہ پر گزر رہے ہیں وہ واردات جو وہاں ہو رہی ہے اگر وہ باتیں آپ کو مکروہ دکھائی دیتی ہیں تو پھر آپ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی