زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 3

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 3 جلد چهارم ایسی صورت میں یہ خیال کرنا کہ کسی انسٹی ٹیوشن کا نظام جس طرح کسی وقت میں قائم کیا گیا تھا اپنی جگہ پر بدستور رہنا چاہئے اور اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں غلط خیال ہے۔اولڈ بوائز ایک طرف اس نظام کی خامیوں سے واقف ہیں اور دوسری طرف اس کی خوبیوں سے آگاہ۔اس کے علاوہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دوسرے شہروں اور انسٹی ٹیوشنوں کی ترقیات کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اس لئے وہ دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ خیالات اور ہمارے نظام کے درمیان اتصالی زنجیر کی ایک کڑی ہے جو اگر صحیح طور پر استعمال کی جائے تو ہماری ترقی میں محمد ہو سکتی ہے۔پس اگر اولڈ بوائز ایسوسی ایشن روحانی، جسمانی، دینی، دنیوی تعلیم اور دیگر ضروری امور کے متعلق اپنے تجارب سے ہیڈ ماسٹر صاحب اور دوسرے کارکنوں کو مطلع کرتی رہے اور ایسی تجاویز پیش کرتی رہے جس سے نظام بہتر سے بہتر ہو سکے تو یہ ایک ایسی خدمت ہوگی جو نہ صرف اس نسل کے لئے بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی مفید ہوگی اور ایسوسی ایشن کے لئے مستقل طور پر ثواب کا محرک اور اجر کا موجب ہوگی۔میں امید کرتا ہوں کہ ایسوسی ایشن اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ اپنی کوششوں کو زیادہ تیز کرے گی۔اس کے بعد میں طالب علموں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ صرف اس امر کو مد نظر نہ رکھیں کہ جو انعام ملے ہیں وہ صرف چاندی ، سونے یا ملمع کا کوئی تحفہ ہے یا کوئی کتاب ہے جس کی قیمت معمولی ہے اور اس سے دگنی بلکہ چار نئی قیمت کی چیز وہ خود خرید سکتے ہیں۔بلکہ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی خریدی ہوئی چیز ان کی اپنی ہے لیکن دوسرے کی طرف سے دیا ہوا انعام دوسروں کی زبان اور عمل سے اس امر کا اقرار ہوتا ہے کہ تم اس کے مستحق ہو۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کو انعام مل جائے تو بعض دوسرے طالب علم کہتے ہیں کہ اس کی رعایت کی گئی۔یہ نفس کا دھوکا ہوتا ہے۔صرف دوسروں کے سامنے اپنی خفت کو کم کرنے کے لئے یہ آڑ لے لیتے ہیں۔اور تعجب ہے کہ میں نے بعض والدین کو بھی دیکھا ہے اپنی اولاد کی طرف سے اس قسم کے پیدا کردہ دھوکا کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے ناراض ہو جاتے ہیں کہ ہمارا لڑکا لائق ہے مگر سکول میں دوسروں کی بلاوجہ رعایت کی جاتی ہے۔ایک شخص نے میرے پاس