زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 2
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 2 جلد چهارم اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے بھی جو کام کیا ہے وہ بھی بہت مبارک ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنی کوششوں اور سعیوں کو آگے سے بھی زیادہ کرے گی۔اور اپنے کام کے لحاظ سے ایسی نمایاں حیثیت اختیار کرنے کی کوشش کرے گی کہ اس کی ضرورت اور فائدہ اور زیادہ اہم سمجھا جانے لگے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی قوتیں عطا کی ہیں کہ وہ روز بروز ترقی کر سکتا ہے اور دنیا کے اندر کوئی چیز ایسی نہیں جو ترقی نہیں کر رہی۔بلکہ ایک معنوں میں خدا تعالیٰ کا کلام بھی ترقی کر رہا ہے۔یعنی اس کے معارف اور باریکیاں روز بروز زیادہ کھلتی جارہی ہیں۔وہ آیات قرآنی جو ایک زمانہ میں مسلمانوں کے لئے ابتلا کا موجب سمجھی جاتی تھیں آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل وہ اسلام کی صداقت کے لئے دلیل و برہان کا کام دیتی ہیں۔اسی طرح قانون قدرت بھی ترقی کر رہا ہے اور یہ خیال کرنا کہ انسانی دماغ کوئی ترقی نہیں کر سکتا ایسی بات ہے جس سے زیادہ اور کوئی لغو بات نہیں ہوسکتی۔بعض نادانوں نے میرے ایک فقرہ پر اعتراض کیا ہے جس میں میں نے کسی موقع پر کہا تھا کہ انسان کے لئے یہ ممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اس حالت روحانیہ کو پالے یا اس سے بڑھ جائے جو حضور علیہ السلام کی کسی زمانے میں تھی۔غیر احمدیوں کی طرف سے اس پر بہت اعتراض کئے گئے ہیں اور اسے رسول کریم ﷺ کی بہتک سے تعبیر کیا گیا ہے۔لیکن نادان اتنا نہیں سوچتے کہ آپ کی موجودہ روحانی حیثیت اُس سے بہت بلند و بالا ہے جو بوقت بعثت یا انتقال تھی۔یہ خیال کرنا کہ آپ آج بھی اُسی مقام پر ہیں اس سے زیادہ ہتک آپ کی کوئی نہیں ہو سکتی۔اور جب آپ آگے بڑھتے اور ہمیشہ ترقی کر رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی امت نہ بڑھے۔نادان ایسے اعتراضات کر کے چاہتے ہیں کہ عارضی طور پر ہمارے خلاف طبائع میں جوش اور ہیجان پیدا کر دیں۔لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ ایسے اعتراضات انسان کی روحانیت اور دماغی ترقی کا خون کرنا ہے اور انسان کو دائرہ ترقیات سے نکال کر مایوسی کی ظلمت میں لے جانا ہے۔بہر حال ہر چیز ترقی کرتی ہے حتی کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور دین بھی ترقی کر رہا ہے۔