زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 4

زریں ہدایات (برائے طلباء) 4 جلد چهارم شکایت کی کہ میرا لڑکا عربی میں بہت لائق ہے مگر استاد نے ذاتی پرخاش کی وجہ سے اسے فیل کر دیا ہے۔میں نے کہا آپ تو عربی جانتے نہیں۔آپ کو کیسے علم ہو گیا کہ لڑکا عربی میں لائق ہے؟ کہنے لگے وہ خود کہتا ہے۔میں نے کہا اچھا ! یہ تو ایسی بات ہے جس کا میں بھی تجربہ کر سکتا ہوں۔میں نے اس لڑکے کا پرچہ منگوایا، استاد نے اسے شاید سو میں سے تین نمبر دیے تھے۔مگر مجھے اس کے بے جارحم بلکہ عقل پر حیرانی ہوئی کہ اس پر چہ کے لئے اس نے کس طرح تین نمبر دے دیئے۔دراصل فیل کرنے میں اس نے ظلم نہیں کیا بلکہ تین نمبر دینا ظلم تھا۔تو میرا یہ لمبا تجربہ ہے کہ اپنے متعلق لوگ غلط رائے قائم کر لیتے ہیں اس لئے میں طلباء کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ انعام لینے والوں کے متعلق یہ مت خیال کریں کہ ان سے رعایت کی گئی ہے۔بلکہ یہی سمجھو کہ وہ تم سے بڑھ گیا تا تمہارے اندر غیرت پیدا ہو اور اس سے بھی آگے نکلنے کے لئے تمہارے دل میں امنگ اور ولولہ پیدا ہو سکے۔جو شخص آسانی سے اس بات کو برداشت کر لیتا ہے کہ دوسرا اس سے آگے بڑھ جائے وہ کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔جب تک ہر قدم پر یہ احساس نہ ہو کہ دوسرا مجھ سے بڑھنے نہ پائے اور جائز ذرائع سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کی جائے اُس وقت تک آئندہ زندگی کامیاب نہیں ہوسکتی۔پھر یہ بھی مت خیال کرو کہ جو انعام دیا گیا ہے وہ بالکل بے حقیقت ہے اور تم اس سے بہت زیادہ قیمتی چیز خود خرید سکتے ہو۔یا د رکھو کہ ایک پیسہ کی مالیت کا انعام لاکھ روپیہ کی قیمتی چیز سے جو تم نے خود خرید کی ہو بدرجہا اچھا ہے۔پیسہ کا انعام حاصل کرنے والا دراصل اپنے تمام ساتھیوں کو شکست دے کر اور فتح کر کے وہ انعام حاصل کرتا ہے اس لئے اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ایک پہلوان سے اگر ایک پیسہ چھین لیا جائے تو وہ بہت زیادہ قیمتی ہے اُس پونڈ سے جو زمین پر پڑا ہوا اتفاقا مل جائے۔بلکہ میں کہوں گا وہ مٹی کا ڈھیلا جو پہلوان سے چھین لیا جائے اُس لاکھ روپیہ کی تھیلی سے بھی زیادہ قدر رکھتا ہے جو مفت میں ہاتھ آ جائے کیونکہ اس میں تمہاری کوئی خوبی نہیں۔پس اپنے نفس کو دھوکا دینے کی مت کوشش کرو۔اور جب بھی تمہارا کوئی ساتھی انعام