زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 75
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 75 جلد چهارم بہانے بنا کر تمہیں ٹال دے گا۔کبھی کہے گا کہ میرے پاس روپیہ نہیں، کبھی کہے گا روپیہ تو ہے مگر کسی اور دوست نے امانتاً میرے پاس رکھوایا ہوا ہے یا مجھے خود ایک سخت ضرورت در پیش ہے اور اس وجہ سے میں روپیہ نہیں دے سکتا۔لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ تم دیانت دار ہو ، تم اسی وقت کسی سے قرض مانگنے جاتے ہو جب واقعہ میں تمہیں شدید ضرورت لاحق ہو تو وہ بلا تامل تمہیں قرض دے دے گا اور اگر اس کے پاس روپیہ نہیں ہو گا تو وہ کسی اور سے تمہارے لئے مہیا کرنے کی کوشش کرے گا۔اسی طرح اگر تم بزدلی اور دون ہمتی مٹا کر کر اپنے اندر جرات اور دلیری پیدا کرو تو لوگ ہر قسم کے کام تمہارے سپرد کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پس تمہارے لئے یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا وقت ہے۔تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے کھیلنے کودنے کی عمر ہے مگر کاش ! تم یہ سمجھتے کہ یہ تمہارے کھیلنے کودنے کی عمر نہیں بلکہ ایک نئی دنیا بسانے اور ایک نیا عالم تعمیر کرنے کی عمر ہے۔تم خدا کا ایک قل ہو جو ایک نئی دنیا بسا رہے ہو۔جس وقت تاج محل کی آگرہ میں بنیاد میں رکھی جارہی تھیں کون کہہ سکتا تھا کہ ان بنیادوں پر کتنا بڑا محل تعمیر ہونے والا ہے۔اسی طرح تم آج جس دنیا کی بنیادیں ڈال رہے ہو ظاہر بین نفوس کی نگاہ میں وہ ایک کھیل ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔جو کچھ آج دنیا دیکھ رہی ہے وہ وہ دنیا ہے جو تمہارے ماں باپ نے بسائی۔مگر جو کل دنیا دیکھے گی وہ وہ دنیا ہوگی جو تم بساؤ گے اور جس کی بنیاد آج تمہارے ہاتھ سے رکھی جا رہی ہے۔لیکن نہ تم اپنی اہمیت سمجھتے ہو اور نہ تمہارے باپ دادوں نے اپنے کام کی اہمیت کو سمجھا۔لیکن بہر حال اگر نیکی اور تقویٰ کے ساتھ اس دنیا کی بنیاد رکھو گے تو خواہ لوگ حقیقت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر وہ اتنا ضرور کہیں گے کہ تمہارے ذریعہ آئندہ دنیا کو جو کچھ ملے گا وہ اچھا ہی ہو گا۔لیکن اگر جھوٹ اور فریب اور لڑائی اور ستی اختیار کرو گے تو گو ہم یہ نہ کہ سکیں کہ تمہاری ان کوششوں کا کیا نتیجہ نکلے گا مگر ہم یہ ضرور کہہ سکیں گے کہ جو بھی نتیجہ ہو گا وہ خراب ہوگا۔پس تمہاری ذمہ داریاں بہت بڑی ہیں اور تمہارے کام بہت وسیع ہیں۔تمہیں چاہئے کہ تم اپنی ذمہ داری کو سمجھو اور کھیل کود میں اپنی عمر ضائع مت کرو اور یہی غرض ہے جو تحریک جدید میں میں نے