زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 76

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 76 جلد چهارم رکھی ہے۔تم جو اس وقت میرے سامنے لڑکے بیٹھے ہو تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تحریک جدید کی صرف ایک ہی غرض ہے اور وہ یہ کہ ہم ایک نئی روحانی دنیا تعمیر کریں۔وہ دنیا جو موجودہ دنیا کا نقشہ پلٹ کر رکھ دے اور روحانی اعتبار سے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بن جائے۔اس دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع خواہ ہمیں نہ ملے اس میں کیا شبہ ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص جب بھی جان دے گا اس خوشی اور مسرت میں جان دے گا کہ اس نے ایک نئی دنیا کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔مگر یا درکھو یہ مقصد خواہ کس قدراہم ہے اس میں تمہاری مدد کے بغیر ہمیں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ہم نے تمہیں ایک نقشہ بتا دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ اس کے نقشہ کے مطابق اپنے اعمال کو ڈھالو اور دنیا کو اپنے لئے مسخر کرلو۔اس وقت اسلام کا جھنڈا ہر جگہ گرا ہوا ہے اور ہم تمہیں اس کی مدد کے لئے بطور سپاہی تیار کر رہے ہیں۔اگر تمہارے دلوں میں اس کام کی محبت اور عظمت نہیں تو یا درکھو تم بڑے ہو کر کوئی کام نہیں کر سکتے۔پس میں تم کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم اپنی ذمہ داری کو سمجھو اور اسلام کا ایک اچھا سپاہی بننے کی کوشش کرو تا تمہارے ہاتھ میں جب اسلام کا جھنڈا آئے تو وہ ایسی حالت میں آئے کہ مخالف تمہاری قوت کو دیکھ کر مرعوب ہو جائے اور وہ سمجھ لے کہ تمہارا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔پس اپنی عمر کو بے قدری کی نگاہ سے مت دیکھو بلکہ الْحَمْدُ لِله کے دروازہ سے گزر کر اس عمر سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اعمال سے ایک ایسی عظیم الشان دنیا بساؤ جو تمام آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ہو۔جس طرح بڑے بڑے شہروں کو دیکھ کر لوگ ان کے نمونہ پر اپنے شہر بساتے اور بڑے بڑے باغات دیکھ کر ان کے نقشہ کے مطابق اپنے باغات تیار کرتے ہیں اسی طرح تم اتنی اعلیٰ اور اتنی شاندار دنیا بساؤ کہ تمام لوگ اس کی نقل کرنے پر مجبور ہوں ، تمام بہترین دماغ اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہوں اور تمام نسلیں اس کے نمونہ کو اختیار کرنے پر مجبور ہوں یہاں تک کہ اس دنیا کو دیکھ کر یورپ اور امریکہ کے لوگ بھی آئیں اور کہیں کہ نہیں بھی اس دنیا کے کسی کو نہ میں بیٹھنے کے لئے جگہ دو۔“