زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 74
زریں ہدایات (برائے طلباء) 74 جلد چهارم ہو جنہوں نے ایک نئی روحانی دنیا پیدا کرنی ہے اور جو کچھ تم آج پیدا کرو گے اس کی فرشتوں کی طرح کل نگرانی کرو گے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول ایک نہایت ہی لطیف مثال دیا کرتے تھے جو تمہاری اس حالت پر بہت عمدگی سے چسپاں ہوتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے جب آموں کا موسم ہوتا ہے اور بچے آم چوستے ہیں تو آموں کی گٹھلیاں زمین میں دبا دیتے ہیں جن میں سے کچھ دنوں کے بعد کو نیل نکلتی ہے۔تب بچے کو نیل سمیت آم کی گٹھلی نکال لیتے ہیں اس کا چھلکا تو ڑ کر الگ پھینک دیتے ہیں اور اندر سے جو گٹھلی نکلتی ہے اسے رگڑ کر اس کی پپیاں بنا لیتے ہیں اور سارا دن اسے بجاتے اور پی پی کرتے رہتے ہیں۔مگر فرمایا کرتے تھے کہ وہی کو نیل اگر بچہ نہ اکھیڑے اور آم کے پودا کو بڑا ہونے دے تو کچھ عرصہ کے بعد وہ اس قدر مضبوط درخت بن جائے گا کہ اگر وہ بچہ اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سمیت بھی اسے اکھیڑ نا چاہے تو نہیں اکھاڑ سکے گا۔یہی حالت آجکل تمہاری ہے۔آج اگر تم مستقل طور پر یہ ارادہ کر لو کہ تم نے اپنے دلوں میں ایمان داخل کرنا ہے، تم نے جھوٹ نہیں بولنا، تم نے خیانت نہیں کرنی تم نے دھوکا نہیں دینا تم نے قریب نہیں کرنا تم نے لڑائی اور جھگڑے سے اجتناب رکھنا ہے تو چند دنوں کے اندر ہی تمہارے اندر ایک انقلاب پیدا ہو جائے گا اور تم دنیا میں عظیم الشان کام سر انجام دینے کے اہل بن جاؤ گے۔اور ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق تم میں قائم ہو جائیں گے کہ دنیا تمہارے مقابلہ میں بڑے بڑے مدبروں اور فلسفیوں کو حقیر سمجھنے لگے گی۔لیکن اگر تم برے اخلاق سیکھو گے تو ساری عمر جہنم میں رہو گے اور گو ظاہری لحاظ سے تمہیں بڑائی بھی مل جائے گی ، رتبہ بھی مل جائے گا ، عزت بھی حاصل ہو جائے گی لیکن اگر تم جھوٹ بولنے والے ہو گے تو لوگ کہیں گے یہ آدمی ہے تو بڑا مگر جھوٹا ہے۔اسی طرح اگر تم خیانت کرنے والے ہو گے تو تمہارے ہمسائے تمہارے پاس امانتیں نہیں رکھیں گے۔تمہیں قرضہ کی ضرورت ہوگی اور تم اپنے کسی دوست کے ہاں لینے جاؤ گے تو با وجود اس کے کہ اس کے گھر میں روپیہ ہو گا وہ تمہیں قرض دینے سے انکار کر دے گا اور کئی قسم کے