زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 57

زریں ہدایات (برائے طلباء) 57 جلد چهارم بچپن کے نقوش ہی آئندہ زندگی کو سنوار سکتے یا اسے بدتر بنا سکتے ہیں 26 فروری 1937ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء نے موسمی تعطیلات پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو نا تھا چنانچہ اس موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے صبح 9 بجے سکول کے ہال میں طلباء سے خطاب فرمایا جو حسب ذیل ہے۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔"میرے سامنے اس وقت کثرت بچوں کی ہے اور بچپن کی عمر ایک ایسی عمر ہے جس کا دوسری عمروں کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ہاں اپنی عمر کے لحاظ سے تمہاری مثال اس بچے کی سی ہے جس کی ماں ایسے جنگل میں پھنس گئی ہو جہاں خوراک اور پانی میسر نہیں آتا۔وہ رات اور دن پانی کی تلاش میں بھاگتی پھرتی ہے۔اس کا گوشت پگھلنا شروع ہو جاتا ہے۔اس کی ہڈیوں کا گودا گھلنا شروع ہو جاتا ہے۔اس کی آنکھوں میں حلقے پڑ جاتے ہیں۔اس کا چہرہ زرد ہو جاتا ہے۔اس کے کلے پچک جاتے ہیں۔اس کے ہونٹ خشک کھال کی طرح ہو جاتے ہیں اور موت اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔لیکن اس کا چھوٹا بچہ جس وقت چلا تا اور دودھ کے لئے بلبلاتا ہے اس کے خون کے آخری قطرے دودھ بن کر اس کی چھاتیوں میں آجاتے ہیں اور جس وقت کہ اس کی ماں کئی دنوں سے پانی کے ایک قطرے کو ترس رہی ہوتی ہے اس کا چھوٹا بچہ اس کی چھاتیوں سے چمٹ کر دودھ پی رہا ہوتا ہے۔اس کے بچے کو معلوم نہیں ہوتا کہ پیاس کیا چیز ہے۔اور اس ماں کو