زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 56
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 56 جلد چهارم لکھا ہے کہ جب کبھی اسے اپنے کام سے فرصت ملتی تو وہ دھونکنی پر جا کر کام شروع کر دیتا۔پس اگر دوسرے سکولوں کی خواہش ہوئی تو ان کے لئے بھی انتظام کر دیا جائے گا۔اس کے بعد میں دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مل کر دعا کریں کہ اس ابتدا کو جو بظاہر چھوٹی اور بیچ معلوم ہوتی ہے۔اللہ تعالٰی ترقی کی منازل تک پہنچائے اور ہمارے کام کرنے والے لوگ اس رنگ میں کام کریں کہ جہاں وہ دنیا کے لئے بہتری کا موجب ہوں وہاں دین کے لئے بھی بہتری کا باعث بنیں۔میں استادوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ لڑکوں میں یہ روح پیدا کریں کہ دنیا کے ساتھ انہیں دین بھی حاصل کرنا ہے۔گویاوہ دست با کار اور دل بایاز کے مصداق بنیں۔شروع سے ہی ان کے اندر یہ روح پیدا کی جائے کہ سلسلہ کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنا، اپنے نفسوں کو مارنا اور اپنے پیشوں کو صرف ذاتی مفاد تک محدود نہ رکھنا بلکہ ان سے سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچانا ان کا مقصد ہے۔اگر یہ روح ان کے اندر پیدا ہو جائے کہ انہوں نے اپنی اپنی صنعتوں میں غیر ممالک کے صناعوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ادھر نیکی اور تقویٰ پر بھی قائم رہنا ہے تب یہ لوگ ہمارے لئے مفید ہو سکتے ہیں ورنہ روٹی کمانے والے تو دنیا میں بہت لوگ ہیں۔ہماری یہ غرض نہیں کہ صرف روٹی کمانے والے پیدا کئے جائیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ایسے ہوں جو دنیا کے ساتھ ساتھ دین کو بھی حاصل کرنے والے ہوں۔وہ اسلام کی کھوئی ہوئی شوکت کو واپس لانے میں محمد ہوں اور دوسروں کو اس بات کا سبق دے سکیں کہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی ایک شخص حقیقی مومن ہوسکتا ہے اور دنیا کمانے سے ان کا ایمان کم نہیں ہوتا بلکہ ترقی کرتا ہے۔“ الفضل 2 مارچ 1936ء) 1 : موضوعات کبیر ملاعلی قاری صفحہ 48 مطبع مجتبائی دہلی 1346ھ 2 گوچیں: گوچ: وہ آرام دہ کرسی جس پر نیم دراز لیٹ سکتے ہیں۔گدے دار نشست ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 15 صفحہ 325 مطبوعہ کراچی 1993ء) 3:آل: کنیت۔صفاتی نام۔وہ نام جس سے کوئی مشہور ہو جائے۔ذات۔قوم پنجابی اردو لغت مرتبه تنویر بخاری صفحه 153 اردوسائنس بورڈ لاہور 1989ء)